ملتان(سٹاف رپورٹر) سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بینچ جس کی سربراہی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کر رہے تھے نے این ایف سی ملتان کے وائس چانسلر ڈاکٹر اختر ملک کو 24 اکتوبر 2024 کو نہ صرف برطرف کر دیا تھا بلکہ 5 سال سے زائد عرصہ تک تنخواہوں اور دیگر مراعات کی مد میں وصول کئے گئے تقریبا 9 کروڑ روپے بھی واپس جمع کرانے کا فیصلہ سنایا تھا۔ڈاکٹر محمد اختر کالرو کی طرف سے دائر کردہ اپیل سپریم کورٹ آف پاکستان کے 5 رکنی آئینی بینچ جس میں سینیئر جج جسٹس امین الدین خان اور جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظاہر، جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی کے آئینی بینچ میں 28 فروری 2025 بروز جمعہ سماعت کے لیے مقرر ہو گئی ہے، یاد رہے کہ ایکٹنگ چارج پر تعینات ہونے والے این ایف سی کے پہلے وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو جنہوں نے بغیر منظوری کے چار سال کے ایک ٹینیور کو مکمل کرتے ہوئے مزید قبضہ برقرار رکھا اور جنہیں چانسلر این ایف سی یونیورسٹی ملتان نے مزید دو سال کی توسیع دی مگر مسلسل شکایات پر دو سال مکمل ہونے سے پہلے ہی ان کو برطرف کر دیا جس کی بابت ڈاکٹر اختر کالرو لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ سےسٹے لے کر مزید براجمان ہو گئے اور جون 2018 میں دو سال کی توسیع ختم ہونے کے باوجود بھی براجمان رہے جس کی بابت ایک پروفیسر نے ڈاکٹر اختر کالرو کے خلاف پہلے لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ میں رٹ دائر کی اس کے بعد سپریم کورٹ اف پاکستان میں ریگولر وائس چانسلرز کی تعیناتی کے کیس میں قاضی فائز عیسیٰ نے ڈاکٹر اختر کالرو کو برطرف کرتے ہوئے ساڑھے چھ سال کی تنخواہیں بھی واپس کرنے کا حکم جاری کر دیا اور ڈاکٹر اختر کالرو کو دو آپشن بھی دئیے گئے کہ آپ غیر قانونی قابض ہیں یا تو رضا کارانہ طور پر سیٹ چھوڑ دیں یا پھر اپنا وکیل لے آئیں جس پر ڈاکٹر اختر کالرو نے جو کہ ساڑھے 12 سال تک این ایف سی یونیورسٹی ملتان پر قابض رہے نے اپنی ضد پر قائم رہتے ہوئے کہا کہ میں سیٹ برقرار رکھنا چاہتا ہوں جس پر قاضی فائز عیسیٰ نے نہایت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر اختر کالرو کو برطرف کرتے ہوئے ساڑھے چھ سال کی تنخواہیں بھی ادا کرنے کا حکم جاری کر دیا مگر ڈاکٹر اختر کالرو نے تنخواہیں جمع کرانے کی بجائے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ میں اپنے وکیل کی وساطت سے اپیل دائر کر دی جو کہ 28 فروری 2025 بروز جمعہ کو سنی جائے گی۔ اس بنچ کےسربراہ جسٹس امین الدین خان کا تعلق بھی ملتان ہی سے ہے اور وہ سول معاملات کے ٹاپ کے جج مانےجاتے ہیں۔






