نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ کے قابض رجسٹرارعاصم عمرانکوائری کیلئے طلب

ملتان (سٹاف رپورٹر) محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے رجسٹرار کی اسامی پر عارضی چارج پر مسلسل قابض ڈاکٹر محمد عاصم عمر کو ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جنوبی پنجاب کے سپیشل سیکرٹری نے ہائی کورٹ میں جاری ایک کیس نمبر 10450/24 میں انکوائری کی بابت طلب کر لیا۔ لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ میں درخواست دہندہ محمد زاہد کی جانب سے محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے 10 سال قبل قائم مقام کے طور پر تعینات رجسٹرار ڈاکٹر عاصم عمر پر جو الزامات لگائے گئے، ان کے مطابق ڈاکٹر محمد عاصم عمر کی بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر تعیناتی بھی سراسر غیر قانونی تھی کیونکہ ان کا تجربہ مطلوبہ شرائط کے مقابلے کم تھا۔ مطلوبہ شرائط کے مطابق ایسوسی ایٹ پروفیسرکیلئے تجربہ 10 سال ضروری تھا جبکہ ان کا متعلقہ تجربہ تقریبا 9 سال کے قریب تھا، مزید یہ کہ وہ محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے رجسٹرار کے طور پر گزشتہ سات سال8 ماہ سے غیر قانونی طور پر قابض ہیں اور اسی انکوائری کی بابت جب ڈاکٹر عاصم عمر کو سپیشل سیکرٹری جنوبی پنجاب نے طلب کیا تو ڈاکٹر عاصم عمر اپنے ٹیچنگ یا ریسرچ کے تجربے کی بابت مطمئن نہ کر سکے کیونکہ ایسوسی ایٹ پروفیسر کے لیے 10 سال کا متعلقہ تجربہ کسی کمپیٹنٹ اتھارٹی سے درکار تھا اور پروفیسر کے لیے کمپیٹنٹ اتھارٹی کا 15 سال کا متعلقہ تجربہ درکار تھا جس کی بابت محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے غیر قانونی پروفیسر و عارضی طور پر گزشتہ ایک دہائی سے تعینات رجسٹرار ڈاکٹر محمد عاصم عمر کسی بھی کمپیٹنٹ اتھارٹی کا متعلقہ تجربہ پیش نہ کر سکے چنانچہ ان کی تعیناتی بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پروفیسر بہت سے شکوک و شبہات اور سوالیہ نشان کا باعث بن گئی ہے، موقف کے لیے جب محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے رجسٹرار ڈاکٹر محمد عاصم عمر سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی سچائی نہیں اور یہ معاملہ آنے والی سینڈیکیٹ میٹنگ میں رکھ دیا جائے گا، مگر جب ان کو انکوائری رپورٹ بھیجی گئی تو انہوں نے اس خبر کی نفی کرنے کی بجائے کہا کہ جب میں نے بتا دیا کہ یہ معاملہ سینڈیکیٹ میں رکھا جائے گا تو مزید کچھ نہیں کہہ سکتا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں