ملتان (سٹاف رپورٹر) گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے 7 فروری 2025 کو ریٹائر ہونے والے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر غلام غوث جو کہ لاہور ہائیکورٹ سے قواعد و ضوابط اور پروسیجر کے متعلقہ حقائق چھپا کر حاصل کئے گئے احکامات کی چھتری تلے رجسٹرار کے عہدے پر 11 جولائی 2024 کو اپنی ریٹائرمنٹ سے 7 ماہ قبل فائز ہوئے اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی رجسٹرار کے عہدے پر غیر قانونی طور پر قابض ہیں جبکہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے آرڈیننس 2002 کے سیکشن 39 کے مطابق وہ ریٹائر بھی ہو چکے ہیں۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کا آرڈیننس 2002 کا سیکشن 13 وائس چانسلر کی تمام تر اتھارٹیز اور پاورز کو واضح کرتا ہے جس کے مطابق وائس چانسلر کے اختیارات اور فرائض کے سب سیکشن 1 کے مطابق وائس چانسلر یونیورسٹی کے چیف ایگزیکٹو اور تعلیمی افسر ہوں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اس آرڈیننس، قواعد، ضوابط اور اصولوں کی پوری طرح تعمیل کی جائے تاکہ یونیورسٹی کی عمومی کارکردگی اور نظم و ضبط اور قواعد و ضوابط کو فروغ ملے، اور اس مقصد کے لیے ان کے پاس تمام ضروری اختیارات ہوں گے، جن میں یونیورسٹی کے تمام افسران، اساتذہ، طلباء اور ملازمین پر انتظامی کنٹرول شامل ہے تو 4 یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر رہنے والے پروفیسر ڈاکٹر رئوف اعظم 60 سال کی عمر میں ریٹائر ہونے والے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر غلام غوث جو کہ تاحال ریٹائرمنٹ کے بعد بھی رجسٹرار کی اسامی پر تعینات ہیں کے سامنے اپنی پاورز اور اتھارٹی کو استعمال کرنے کےبجائے اتنے بے بس کیوں نظر آ رہے ہیں اور تمام تر ملبہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پر ڈال کر بری الذمہ ہو رہے ہیں جبکہ وہ اس بارے میں مکمل طور پر جواب دہ ہیں۔ دوسری طرف ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ یہ معاملہ وائس چانسلر پر ڈال کر بری الزمہ ہے۔ اس صورتحال پر وائس چانسلر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد سے پوچھا گیا کہ اگر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اس معاملے کو نہیں دیکھ رہا تو آپ بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے آرڈیننس 2002 کے سیکشن 13 کے تحت اپنی پاورز اور اتھارٹیز کو قانون کے مطابق استعمال کرنے میں بالکل آزاد ہیں تو آپ اپنی ذمہ داریاں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پر ڈال کر کیونکر اپنی ذمہ داریوں سے بری الزمہ ہو سکتے ہیں۔ آپ نے قانون کے تحت حلف لیا ہے کہ آپ یونیورسٹی کو قانون کے مطابق چلائیں گے مگر آپ اسی قانون کے سیکشن 39
کے بر خلاف ایک ریٹائر شخص کو تعینات کئےہوئے ہیں۔ اور ایسی کیا مجبوری ہے کہ آپ اسی قانون کے سیکشن 13 کو استعمال کرنے سے قاصر ہیں تو ڈاکٹر رئوف چوتھی یونیورسٹی کے وائس چانسلر بننے کے باوجود اپنی پاورز اور اتھارٹی بارے کوئی جواب نہ دے سکے ۔






