خواتین یونیورسٹی میں بور آف ایڈوانس سٹڈیز کی غیر قانونی میٹنگ،استفسار پر آئیں بائیں شائیں 

ملتان (سٹاف رپورٹر) جنوبی پنجاب کی خواتین کی سب سے بڑی یونیورسٹی خواتین یونیورسٹی ملتان میں ایک منفرد واقعہ سامنے آیا ہے جس کے مطابق خواتین یونیورسٹی ملتان کی بورڈ آف ایڈوانس سٹڈیز اینڈ ریسرچ کا انعقاد غیر قانونی طور پر پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ یاد رہے کہ خواتین یونیورسٹی ملتان کے ایکٹ 2010 کے سیکشن 24 کے تحت بورڈ آف ایڈوانس اسٹڈیز اینڈ ریسرچ میں جو ممبران شامل ہیں ان میں وائس چانسلر اس بورڈ کی چیئرپرسن ہوتی ہیں جبکہ بقیہ ممبرانِ میں تمام ڈین خواتین، کنٹرولر امتحانات، ہر فیکلٹی سے ایک ایک یونیورسٹی پروفیسر جو سنڈیکیٹ کی طرف سے نامزد کیا جائے گا، ایک رکن جو وائس چانسلر کی طرف سے نامزد کیا جائے گا، متعلقہ تحقیقی اداروں اور حکومت کی طرف سے تین ارکان، جو سنڈیکیٹ کی طرف سے نامزد کیے جائیں گے اور اس بورڈ میٹنگ میں رجسٹرار سیکرٹری کے فرائض سر انجام دیں گی۔ اس مجلس برائے اعلیٰ مطالعات اور تحقیق کے ارکان کی مدتِ ملازمت جو کہ غیر عہدے والے ارکان کے لئے تین سال ہو گی اور مجلس برائے اعلیٰ مطالعات اور تحقیق کے اجلاس کے لیے کورم کے کل ارکان کی نصف تعداد ہوگی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ریگولر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فرخندہ منصور کے چارج سنبھالنے کے بعد سابقہ ایکٹنگ تعینات وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ دوبارہ پرو چانسلر کا عہدہ سنبھال چکی ہیں مگر اس بابت پرو چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کا بورڈ آف ایڈوانس اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کو چئیر کرنا سمجھ سے بالاتر ہے اور اس طرح سے بورڈ آف ایڈوانس سٹڈیز اینڈ ریسرچ کی یہ میٹنگ بھی غیر قانونی تصور ہو گی اور ریذیڈنٹ آڈیٹر خواتین یونیورسٹی کاشف رضا کی جانب سے 23 جنوری کو سابقہ وائس چانسلر کو لکھے گئے خط کے مطابق 19 ماہ سے عارضی تعینات رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر میمونہ یاسمین خان کی غیر قانونی ہونے اور تمام تر میٹنگز میں ان کی بطور رجسٹرار شمولیت بھی غیر قانونی تصور ہو گی۔ چنانچہ پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کا بورڈ آف ایڈوانس اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کی میٹنگ کو چئیر کرنا اور ریذیڈنٹ آڈیٹر کے خط کے مطابق پروفیسر ڈاکٹر میمونہ یاسمین خان کا بطور سیکریٹری بورڈ آف ایڈوانس اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کا انعقاد کرنا غیر قانونی عمل قرار پاتا ہے اور یہ خواتین یونیورسٹی ملتان کے اپنے ہی قوانین کے ساتھ کھلم کھلا مذاق ہے۔ اس بارے میں جب یونیورسٹی کے آڈیٹر کے خط کے مطابق غیر قانونی رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر میمونہ یاسمین خان سے رابطہ کیا گیا کہ انہوں نے کس قانون کے تحت بورڈ آف ایڈوانس اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کی میٹنگ کے سیکرٹری کے فرائض سر انجام دئیے جبکہ ریذیڈنٹ آڈیٹر آپ کی تمام تر میٹنگز میں بطور رجسٹرار شمولیت کو غیر قانونی قرار دے چکے ہیں تو 2 موقف سامنے آ گئے جس میں پہلے موقف کے مطابق بورڈ کی میٹنگ ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے چیئرکی۔ جب یونیورسٹی انتظامیہ کو موقف کے لئےخبر بھیجی گئی کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کا میٹنگ چئیر کرنا غیر قانونی تھا تو رجسٹرار نے موقف اختیار کیا کہ میڈم فرخندہ نے میٹنگ خود چیئر کی۔ وی سی میڈم لیٹ پہنچی تھیں ان کے دستخط بھی موجود ہیں جو بھی آئٹم پوائنٹ ڈسکس ہوئے ان میں ڈاکٹر فرخندہ موجود تھیں۔ جب بورڈ کی میٹنگ کی غیر قانونی طور پر پرو چانسلر کی چئیرمین شپ کے تحت انعقاد کے حوالے سے ڈاکٹر کلثوم پراچہ سے رابطہ کیا گیا تو ان کا موقف تھا کہ ڈاکٹر فرخندہ نے اس وقت تک جوائن ہی نہیں کیا تھا اور بصر کی میٹنگ تو دس دن پہلے سے طے شدہ تھی۔ اب 95 ایجنڈے ہو چکے تھے یونیورسٹی بہت مشکل میں تھی تو ادارے کی بہتری کے لیے کام روکنے نہیں چاہئیں۔ ڈاکٹر فرخندہ نے 3 بج کر 30 منٹ پر جوائن کیا اس کے بعد سے وہی وائس چانسلر ہیں۔ چونکہ ان کی طبیعت ناساز ہے تو بحالت مجبوری انہوں نے صرف جوائننگ دی ہے ابھی کام شروع نہیں کیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں