ملتان (سٹاف رپورٹر) سرکاری اداروں میں بجلی چوری، عدم ادائیگی، ڈائریکٹ کنڈے اور سالہا سال کے بقایا جات کی بابت روزنامہ قوم میں خبر شائع ہونے کے بعد اسلام آباد میں منسٹری آف انرجی کے اعلیٰ حکام اور بعد ازاں میپکو ملتان آفس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر کی زیر سربراہی ہنگامی میٹنگ بلائی گئی جس میں وفاقی اور صوبائی سرکاری اداروں اور محکموں سے بجلی بلوں کی وصولیوں اور تمام ڈویژنز کے ایکسین حضرات کو اس بات کا پابند کیا گیا کہ وہ اپنے اپنے زیر انتظام سب ڈویژنز میں تعینات ایس ڈی اوز سے رپورٹ طلب کریں کہ ان کے ماتحت علاقوں میں کون کون سے سرکاری ادارے موجود ہیں اور کس کس سرکاری ادارے کے کتنے کتنے بقایا جات ہیں اور کتنے کتنے سالوں سے یہ بقایا جات واجب الادا ہیں اور یہ بھی چیک کیا جائے کہ کس کس سرکاری ادارے کے میٹر خراب ہیں اور کون کون سے سرکاری ادارے خراب میٹر ہونے کے ہونے کے باوجود بجلی استعمال کر رہے ہیں یا پھر ڈائریکٹ کنڈے لگا کر بجلی استعمال کر رہے ہیں اس میٹنگ کے فورا ًبعدایکسین حضرات نے ان تمام ہدایات کی بابت اپنے اپنے زیر انتظام سب ڈویژنز کے ایس ڈی اوز کو پابند کر دیا اور ان سے رپورٹ طلب کر لی گئی کہ ان کے زیر انتظام مختلف سرکاری اداروں جن کے میٹر یا تو کٹ گئے ہیں یا پھر ڈائریکٹ کنڈے لگا کر چلائے جا رہے ہیں ان کی رپورٹ مرتب کی جائے۔ چیف ایگزیکٹو افیسر میپکو نے یہ ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس طرح کی کوئی بھی غیر قانونی بجلی سپلائی سرکاری اداروں کو پکڑی گئی تو اس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ ایس ڈی او اور ایکسین پر ہو گی ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ میپکو کے بہت سے افسران نے روزنامہ قوم میں سرکاری اداروں کی جانب سے بجلی چوری، عدم ادائیگی اور سالہا سال کے بقایا جات کی بابت خبر شائع ہونے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ ہم تو ان اداروں پر ہاتھ ڈالنے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے بجلی چوری روکنا تو دور کی بات ہے اب کم از کم ان چوری کرنے والے اور بل بجلی ادا نہ کرنے والے سرکاری محکموں سے بلوں کی ادائیگی اور ریکوری بہت حد تک شروع ہو جائے گی۔






