جی سی یوایف؛دوعہدے دوکہانیاں،ڈاکٹرغلام غوث بطوراسسٹنٹ پروفیسرریٹائر،رجسٹراربرقرار

ملتان (سٹاف رپورٹر) پنجاب کے دوسرے بڑے ضلع فیصل آباد کی سب سے بڑی یونیورسٹی ، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد میں ایک انوکھی کہانی سامنے آگئی ہے جس کے مطابق گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد میں 4 جولائی 2024 کو تعینات ہونے والے رجسٹرار ڈاکٹر غلام غوث نے اپنی ہی جانب سے 26 اگست 2024 کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا کہ ڈاکٹر غلام غوث بذات خود ہسٹری ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ پروفیسر کے ریگولر عہدے سے 7 فروری 2025 کو ریٹائر ہو جائیں گے۔ حیران کن طور پر 7 فروری 2025 کو ریٹائر ہونے والے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر غلام غوث کا رجسٹرار کا نوٹیفکیشن گورنر پنجاب کی جانب سے 3 سال کیلئے 4 جولائی 2024 کو جاری کیا گیا جب اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر غلام غوث کی ریٹائرمنٹ میں صرف 7 ماہ رہ گئے تھے تو ڈاکٹر غلام غوث کی جانب سے ہائیکورٹ میں دائر کیس کی بابت سہولت کاری دیتے ہوئے حیران کن طور پر 7 ماہ بعد ہی ریٹائر ہونے والے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر غلام غوث کو رجسٹرار تعینات کر دیا جبکہ ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں رجسٹرار کی عمر کی حد 40 سے 50 سال ہے اور اس سے بڑی عمر کا حامل شخص رجسٹرار ، کنٹرولر یا خزانچی نہیں لگ سکتا۔ تاہم فیصل آباد کے اس کیس کی مثال پاکستان میں کہیں نہیں ملتی۔اس بارے میں موقف کے لیے جب 7 فروری کو ریٹائر ہونے والے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر غلام غوث / حال تعینات رجسٹرار گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ مجھے ہائیکورٹ کی ڈائریکشن اور عمر کی حد میں آسانی کی بابت رجسٹرار لگایا گیا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ رجسٹرار کی عمر کی حد تو ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق 40 سے 50 ہے تو ان کا کہنا تھا کہ رجسٹرار کے لیے کوئی عمر کی کوئی حد نہیں اور یہ کنٹریکٹ کی پوسٹ ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ ریٹائر ہو چکے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ مجھے تو گورنر نے ہائیکورٹ کے حکم پر لگایا ہے۔ آپ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے پوچھ لیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں