جامعہ زکریا کرپشن نیٹ ورک توڑنے پر سیاسی بھرتی ،عملہ وی سی کی جان کا دشمن ،دھمکیاں

جامعہ زکریا؛ڈاکٹر فاطمہ کی جعلی بھرتی،شوہرملوث،ملتان پوسٹ گریجو ایٹ کالج کا بوگس تجربہ

جامعہ زکریا کا اپائنمنٹ لیٹر،ڈاکٹر فاطمہ فارو ق کی درخواست اور تجربے کا عکس

ملتان (سٹاف رپورٹر) بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں جعلی تجربے، اختیارات کے ناجائز استعمال اور ملکی خزانے کو اس جعلی تجربے اور دھوکا دہی کی بابت نقصان پہنچانے کا انکشاف ہوا ہے جس کے مطابق جعلی اور بوگس تجربے کے سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں گریڈ 19 میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر سکول آف اکنامکس کی ٹیچر فاطمہ فاروق کی تعیناتی مبینہ طور پرمیرٹ کے منافی کی گئی۔ تفصیل کے مطابق بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں سکول آف اکنامکس میں تعینات ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر فاطمہ فاروق جنہوں نے 2016 میں سکول آف اکنامکس میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر تعیناتی حاصل کی، نے سکول آف اکنامکس میں بطور لیکچرار 2012 اور اسسٹنٹ پروفیسر 2016کی تعیناتی کیلئے جعلی تجربے کا سہارا لیتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ کو دھوکا دیا اور اس ساری کارروائی میں ان کا ساتھ سکول آف اکنامکس کے سابق ڈائریکٹر اور ڈاکٹر فاطمہ فاروق کے شوہر ڈاکٹر عمران شریف نے دیا۔ اپنے تجربے کے خانے میں ملتان پوسٹ گریجوایٹ کالج کا 2008 سے 2012 تک کا بطور لیکچرار کا تجربہ ظاہر کیا جبکہ حقیقتا ًانہوں نے 2009 سے 2011 تک گورنمنٹ ہائی سکول وہاڑی میں سائنس سکول ٹیچر کے طور پر کام کیا۔ اس بابت تمام تر ثبوت ڈاکٹر فاطمہ فاروق کے درخواست میں دیئے گئے تجربے کی نفی کرتے ہیں۔ سونے پر سہاگہ ملتان پوسٹ گریجوایٹ کالج نے بھی اس دھوکا دہی میں ڈاکٹر فاطمہ فاروق کا ساتھ دیا۔ یاد رہے کہ ملتان پوسٹ گریجویٹ کالج بھی بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان ہی سے الحاق شدہ کالج ہے اور ملتان پوسٹ گریجوایٹ کالج کا اپنی ہی یونیورسٹی کو تجربے کی ویری فکیشن کی مد میں دھوکا دینا بھی حیران کن ہے مگر اس سے بھی زیادہ شرمندگی کہ بہاالدین زکریا یونیورسٹی کی انتظامیہ کے علم میں لائے جانے کے باوجود ملتان پوسٹ گریجویٹ کالج کی انتظامیہ کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہ کی گئی ہے۔ اور نہ ہی جعلی تجربے اور دھوکے سے ملازمت حاصل کرنے اور دھوکے سے سکول ٹیچر سے براہ راست یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر بننے اور پھر دو نمبر تجربے کی ہی بنیاد پر ایسوسی ایٹ پروفیسر کی تعیناتی حاصل کرنے میں کامیاب ہونے والی ڈاکٹر فاطمہ فاروق کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی کی گئی ہے۔ تعلیمی حلقے بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی انتظامیہ، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور چانسلر/گورنر پنجاب سے یونیورسٹی کے تمام ملازمین کے تجربات کی ویری فکیشن کی درخواست کرتے ہیں۔ اس بارے میں جب اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کی پروفیسر ڈاکٹر فاطمہ فاروق سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ سب جھوٹ بے بنیاد اور پراپیگنڈا ہے جبکہ روزنامہ قوم کے پاس سارے ثبوت موجود ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں