ملتان میں مافیا کی تان،ناجائز مال کی سپلائی،پٹرول ڈیزل،ایل پی جی کے زیر زمین ذخیرے

ملتان( سٹاف رپورٹر) پاکستان کے وسط میں ایک بڑا شہر ہونے اور ملک کے چاروں صوبوں کے مرکزی روٹس سے ملحق ہونے کی وجہ سے ملتان ملک بھر میں سمگلروں، منشیات فروشوں، آئل اور ایل پی جی مافیا کا اہم ترین مرکز بن چکا ہے ۔جہاں بلوچستان ،سندھ اور خیبرپختونخوا کے لوگوں نے باقاعدہ طور پر ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور پاکستان کے مرکزی شہر ہونے کی وجہ سے ملک بھر میں ناجائز مال کی سپلائی کا کراچی سے بھی بڑا مرکز ملتان ہے ۔جہاں سے ملک بھر کے مختلف مافیا سے وابستہ لوگ اپنے دو نمبر دھندوں کے لئے رابطوں میں ہیں ۔آئل مافیا کا سب سے بڑا مرکز اگر ملتان ہے تو جعلی چائے ، سگریٹ اور سمگل شدہ سامان کی پرچون اور سارٹنگ بھی اسی شہر کے گوداموں میں ہوتی ہے ۔ملتان کی غلہ منڈی اور اس سے ملحقہ مارکیٹوں میں کروڑوں روپے کا ناجائز مال لایا اور پھر ملک بھر میں بھجوایا جاتا ہے جبکہ ملتان کا جنرل بس اسٹینڈ اور ٹرک سٹینڈ دو نمبر دھندے کرنیوالوں کی جنت ہے ۔جہاں رات گئے بسوں کے ذریعے ناجائز اور سمگل شدہ مال کی آمد شرو ع ہوجاتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ جنرل بس اسٹینڈ پر قائم پولیس چوکی پنجاب بھر کی پولیس کی ڈائمنڈ چوکی مانی جاتی ہے ۔جسے آئی جی پنجاب نے ختم کردیا تھا مگر اسے بحال کرانے والے اتنے طاقت ور تھے کہ انہوں نے موجودہ آئی جی ہی سے اسے بحال کرالیا جنہوں نے اس لاری اڈا چوکی سمیت پنجاب بھر کی سینکڑوں پولیس چوکیاں بند کردی تھیں اور اس چوکی کی بحالی کے ساتھ دیگر متعدد پولیس چوکیاں بھی بحالی کا اعزاز پاگئیں۔ ٹھگوں، سمگلروں، آئل مافیا ، جعلی موبائل آئل مافیا ، ایل پی جی مافیا، گٹکا مافیا،عورتوں کے ذریعے لوگوں کو گھیر کر لوٹنے والے گینگ اور منشیات کی ترسیل کا گڑھ جنرل بس اسٹینڈ چوکی کے زیر انتظام علاقے بن چکے ہیں۔ اس چوکی کے زیر انتطام جنرل بس اسٹینڈ کے علاوہ سبزی وفروٹ منڈی ، جنرل بس اسٹینڈ بھی ہیں جوکہ پولیس اسٹیشن سیتل ماڑی کے زیر انتظام ہے۔ اس پولیس چوکی کی حدود میں گنجان آبادیوں میں گھروں کے درمیان لوگوں نے ہزاروں لٹر سمگل شدہ ڈیزل اور پٹرول زیر زمین ٹینکوں میں محفوظ کررکھا ہے جبکہ ایل پی جی کے بھی گودام آبادی کے اندر موجود ہیں جس پر کبھی بھی کسی متعلقہ سرکاری ادارے نے ہاتھ نہیں ڈالا۔ سب سے بدترین صورتحال تغلق ٹائون کی ہے ۔ ایڈ منسٹریٹر جنرل بس سٹینڈ اس تمام صورتحال پر مکمل طور پر آگاہ ہونے کے باوجود کارروائی سے گریز کرتے ہیں اور یہاں کے شوٹر گروہوں کے سامنے بے بس ہیں جبکہ پولیس چوکی انچارج کی سرپرستی میںدن کے اوقات سے زیادہ رات کو ہوتی ہے اور چوکی انچارج کا کارخاص کانسٹیبل رضوان رات 8 بجے سے صبح6 بجے تک دیگر صوبوں سے آنے والی بسوں سے اپنی موجودگی میں جعلی اور سمگل شدہ مال اترواتا ہے اور مال لے کر گوداموں میں جانے والے رات ایک بجے ہی جنرل بس اسٹینڈ پر جمع ہونا شروع ہوجاتے ہیں جوکہ مخصوص ٹائم، مخصوص کمپنی اور مخصوص نمبروں کی بسوں کے انتظار میں ہوتے ہیں بعض پولیس کانسٹیبل بدکار خواتین کی سرپرستی کرتے ہیں جوکہ مبینہ طور پر دیگر شہروں سے آنے والوں کو ورغلا کر لوٹ لیتی ہیں۔ سی پی او ملتان صادق ڈوگر نے دو ماہ قبل سخت کارروائی کی تھی اور سرپرائز چیکنگ شروع کرائی تھی جس سے فوری طور پر حالات میں ٹھہرائو آگیا تھا مگر چند ہی دنوں بعد آہستہ آہستہ یہ گینگ پھر باہر نکل آئے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں