ملتان(سٹاف رپورٹر)ایل پی جی با ئوزر دھماکے کو پانچ روز گزر گئے مگر ابھی بھی سرکاری ادارے یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ ایل پی جی سے بھرے 30 ٹن گیس کے کنٹینرکیسے وہاں سے ہٹایا جائے جس میں سے گیس لیک ہو رہی ہے اور موقع پر ریسکیو کا عملہ اور پولیس اہلکار سانپ کے گزرنے کے بعد لکیر پیٹ رہے ہیں ۔جو گھر مسمارہو گئے ان کے مکین شدت کی سردی میں کھلے آسمان تلےپڑے ہیں۔ انتظامیہ کی طرف سے ٹینٹ فراہم کئے گئے ہیں جو کہ متاثرین کی تعداد کے مقابلے میں بہت ہی کم ہیں جبکہ مخیر حضرات کی طرف سے کھانا بھی تقسیم کیا جاتا ہے۔ضلعی انتظامیہ کی طرف سےنقصان کے ازالے کے حوالے سے ابھی تک کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔ البتہ مرنے والوں کے ورثا کو 20 لاکھ فی کس اور زخمیوںکو 5 لاکھ فی کس کے حساب سے چیکوں کی ادائیگی کر دی گئی ہے مگر وہاں کے دودھ فروش جن کی مجموعی طو رپر 40 سے زائد بھینسیں اور دیگر جانور مر چکے ہیں ان کی آباد کاری کا بھی ابھی تک کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔ درجنوںگھر متاثر اور دس سے زائد گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں اور موقع پر ایل پی جی سے بھرا بائوزر خوف میں اضافہ کر رہا ہے۔ پولیس کی ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ جب اس موقع پر پولیس ایک نکے تھانے دار سے پوچھا گیا تو وہ کہنے لگا کہ ہم نے تو مقدمہ درج کر لیا ہے اب عدالت جانے اور ملزمان جانیں۔ ہمارا کام تو دو دن ہی میں دن رات لگا کر مکمل کر لیا گیا تھا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ علاقہ مکین بتاتے ہیں کہ یہاں رات دس بجے سے صبح تک گیس سے بھرے بڑے بڑے ٹرالر آئے تھے اور جب ان کی نوزل کھولی جاتی تھی تو ہر مرتبہ ہی تیزی سے گیس لیک ہونے کی باقاعدہ آوازیں آتی ہیںپھر جب کبھی ہوا کارخ ان کے گھروں کی طرف ہوتا تھا تو بدبو بھی بعض اوقات ان کے گھروں تک پہنچ جاتی ہے تو اس کا پولیس کو علم نہ تھا جس پروہ جواب دینےکےبجائے موقع سے روانہ ہو گیا۔ علاقہ مکینوں نے بتایا کہ یہاں پولیس کا ہر وقت آنا جانا رہتا تھا۔ پولیس والوںکے لئے ہوٹلوں سے گوشت کی کڑاھیاں بن کر آتی تھیں اور رات بھر یہاں سیاہ دھندہ ہوتا تھا۔ ایک شخص نے بتایا کہ اگر کوئی بچہ بھی غلطی سے گیٹ سے اندر داخل ہوتا تو جب بھی کبھی وہاں پولیس موجود ہوتی اُسے بلا کر کان پکڑوا دیتے تھے جس کے خوف سے ہم تو اس طرف دیکھتے بھی نہ تھے۔ روزنامہ ’’ قوم‘‘ کی ٹیم کو ایک ضعیف عورت نے بتایا کہ کبھی ہمارے گھر دودھ فروخت کیلئے ہوتا تھا آج ہم ایک بوند دودھ کو بھی ترس گئے ہیں۔






