سپریم کورٹ احکامات مسترد،جامعات میں عارضی رجسٹرارخزانچی،کنٹرولرزبرسوں سے قابض

ملتان (سٹاف رپورٹر) صوبائی حکومت کی جانب سے صوبہ بھر کی یونیورسٹیوں میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے مورخہ 24 اکتوبر 2024 کے تحریری فیصلے کی روشنی میں یہ قرار دیا گیا کہ خالی ٹینیورڈ پوسٹیں جن میں رجسٹرار خزانچی، کنٹرولر امتحانات، ڈین اور ڈائریکٹرز شامل ہیں کو چھ ماہ سے زیادہ ایکٹنگ چارج یا ایڈیشنل چارج پر نہیں چلایا جانا چاہئے اور ان ٹینیورڈ پوسٹوں رجسٹرار،خزانچی، کنٹرولر امتحانات، ڈین اور ڈائریکٹرز کا چارج اس شخص کو دینا چاہئے جو قانون کے مطابق پورا اترتا ہو اور اس پوسٹ کے برابر سینیارٹی میں کسی شخص کے موجود نہ ہونے کی صورت میں ایڈیشنل چارج سینیارٹی میں اگلے شخص کو دینا چاہئے اور یہ چارج کسی بھی کیلنڈر سال میں ایک شخص کے پاس چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے مگر حیران کن طور پر سپریم کورٹ کے احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے یونیورسٹیوں اور اعلی تعلیمی اداروں کے وائس چانسلر حضرات نے ان کرسیوں پر سالہا سال سے ایک ہی شخص کو تعینات کر رکھا ہے۔ روزنامہ قوم کے ریسرچ سیل نے مختلف تعلیمی اداروں کی انتظامیہ سے اس بارے میں موقف لیا تو ان کے جوابات کچھ اس طرح سے تھے جن میں سے ایک تعلیمی ادارے نے یہ جواب دیا کہ ہمارے ادارے کی سنڈیکیٹ نے رجسٹرار خزانچی اور کنٹرولر کو بٹھایا ہوا ہے جبکہ قانون کے مطابق تقریباًپاکستان کی تمام یونیورسٹیز کے قانون میں یہ ایڈیشنل چارج چھ ماہ سے زیادہ ممکن ہی نہ ہے اور سپریم کورٹ نے بھی اپنے فیصلے میں یہی قرار دیا ہے۔ اب اگر سنڈیکیٹ نے یہ غیر قانونی کام سر انجام دیا ہے تو سنڈیکیٹ اپنی ہی یونیورسٹی کے قانون اور سپریم کورٹ کے احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہی ہے۔ زیادہ تر یونیورسٹیز میں سنڈیکیٹ کی فارمیشن قانون کے مطابق ہی نہ ہے اور سنڈیکیٹ سوائے ایک ربر سٹیمپ کے کوئی کام نہیں کر پارہی۔ ملتان کی ایک یونیورسٹی کے سپریم کورٹ سے برطرف ہونے والے وائس چانسلر 12 سال تک اپنی مرضی کی سنڈیکیٹ بنا کر تمام تر غیر قانونی فیصلے کرواتے رہے اور نہ ہی سنڈیکیٹ کے تمام ممبران کو آج تک ایجنڈا دیا گیا اور آخر میں سنڈیکیٹ کے منٹس پر بھی بغیر پڑھے اور بغیر دیکھے تمام سنڈیکیٹ ممبران سے دستخط لیے گئے۔ اس بارے میں سینئر ایڈووکیٹ شیخ محمد فہیم کا کہنا ہے کہ اگر سنڈیکیٹ کسی بھی قسم کے غیر قانونی کام میں ملوث ہوتی ہے تو سنڈیکیٹ بھی قانون کے سامنے جواب دہ ہے اور اس غیر قانونی کام کی بابت سنڈیکیٹ کے خلاف بھی کارروائی ہو سکتی ہے۔ ایک اور یونیورسٹی کی انتظامیہ سے جب غیر قانونی سنڈیکیٹ اور دہائیوں سے رجسٹرارخزانچی اور کنٹرولر کی کرسی پر تعینات افراد بارے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں اور ان کو چھیڑنا مناسب نہ ہے لیکن دراصل وائس چانسلر حضرات کی عارضی رجسٹرار خزانچی اور کنٹرولر کے ساتھ ملی بھگت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وائس چانسلر حضرات مستقل رجسٹرار خزانچی اور کنٹرولر رکھنےکے بجائے ایڈیشنل چارج پر رجسٹرار خزانچی اور کنٹرولر کے ذریعے کام چلا رہے ہیں تاکہ رجسٹرار خزانچی اور کنٹرولر وائس چانسلر حضرات کے تمام غیر قانونی کاموں میں وائس چانسلر کا ساتھ دے سکیں ایک اور یونیورسٹی کی انتظامیہ سے جب پوچھا گیا کہ آپ کی یونیورسٹی کے ایڈیشنل چارج پر رجسٹرار خزانچی اور کنٹرولر کی عمر تو 50 سے بھی زائد ہے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ زیادہ تجربہ کار ہیں اور جبکہ حقیقتا ًپاکستان کی تقریبا تمام یونیورسٹیوں کے قانون میں رجسٹرار خزانچی اور کنٹرولر کی عمر 40 سے 50 کے درمیان ہے تو ایڈیشنل چارج پر تعینات 50 سال سے زائد رجسٹرار خزانچی اور کنٹرولر ناصرف تجربہ کار ہیں بلکہ کاریگر بھی ہیں۔ بہاالدین زکریا یونیورسٹی کے سابقہ وائس چانسلر سے جب اس بارے میں بات کی گئی کہ زیادہ تر یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز عارضی رجسٹرار خزانچی اور کنٹرولر سے کیوں کام چلا رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ مستقل وائس چانسلر کے تعینات ہونے سے پہلے عارضی طور پر تعینات رجسٹرار خزانچی اور کنٹرولر کی جڑیں اس قدر مضبوط ہو چکی ہوتی ہیں کہ وہ نئے تعینات ہونے والے مستقل وائس چانسلر کو مستقل رجسٹرار خزانچی اور کنٹرولر کے اخبار اشتہار سے روک دیتے ہیں۔ ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے جب ان عارضی رجسٹرار خزانچی اور کنٹرولر بارے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ان کی پرفارمنس بہت اچھی ہے اس لیے ان کو تبدیل کرنا مناسب نہ ہے۔ جبکہ وہ وائس چانسلر کس قسم کی پرفارمنس کی بات کر رہے تھے یہ تعلیمی دنیا سے تعلق رکھنے والے افراد بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔نوٹ: یونیورسٹیوں اور ان میں جاری غیر قانونی معاملات کی بابت اگر کوئی انفارمیشن بمعہ ثبوت دینا چاہے تو وہ 03336052286 پر رابطہ کر سکتا ہے انفارمیشن دینے والے کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں