ملتان(سٹاف رپورٹر)حساس اداروں کی کسٹم حکام کو مکمل معلومات دیئے جانے کے بعد گزشتہ سے پیوستہ ہفتے غلہ منڈی میں ہونے والے سمگل شدہ مال پر چھاپے کی اطلاع تین گھنٹے پہلے ہی ہو گئی تھی اور سمگلروں نے فوری طور پر واپس آکر دکانیں کھول کر اندر پڑے پیسے اور گودام ،دکانوں میں موجود کروڑوں کا مال ٹرکوں، لوڈر رکشوں حتیٰ کہ موٹر سائیکلوں پر رکھ کر رشید کالونی،تغلق ٹاؤن اور بائی پاس کے علاقوں میں منتقل کر دیا ۔سگار کی پیٹیاں بھی موٹر سائیکلوں پر نکالی گئیں ۔ بتایا گیا ہے کہ مہنگے سگار کے ایک کارٹن کی قیمت 15 لاکھ روپے سے بھی زائد تھی۔ اس ’’ کامیاب ریڈ‘‘ کا توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ جس وقت ریڈ کی گئی تب رات کے 11 بج رہے تھے اور مارکیٹیں نماز عشا سے پہلے ہی بند ہو جاتی ہیں مگر اس روز سمگلنگ کا مال فروخت کرنے والے متعدد تاجر اپنی دکانوں پر موجود تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ یہ مخبری ظفر عرف راجہ نامی ایک شخص نے کی جو کہ چائے پتی ،ڈیٹرجنٹ وغیرہ کی ملاوٹ کا کاروبار کرتا ہے اور اس کے کسٹم حکام سے بہت گہرے مراسم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر اوقات پکڑے جانے والے مال کو واپس لینے یا غیر معیاری مال رکھوا کر اصل مال نکلوانے کے لیے بھی متعدد سمگلر اسی سے رابطے کرتے ہیں۔ ریڈ کی اطلاع پر دو گھنٹوں میں کروڑوں کا مال محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا اور جب پولیس کسٹم حکام کے ہمراہ پہنچے تو متعدد دکانوں کے شٹر اوپن تھے اور دکاندار مارکیٹ کے ارد گرد ہی موجود تھے۔






