رحیم یار خان ؛1ارب 7 کروڑکےپراجیکٹ میں 50کروڑ کی مبینہ کرپشن ،رٹ دائر

رحیم یارخان(بیورو رپورٹ)اقبال آباد تا انٹر چینج روڈ کی تعمیر،1 ارب 7 کروڑ روپے کا منصوبہ، ایکسین ہائی وے ٹھیکیدار کا پارٹنر نکلا،پہلے سے تعمیر شدہ روڈ کو کشادہ کرنے کے نام پر 50 کروڑ روپے کی کرپشن کئے جانے کا انکشاف،ایکسین ہائی وے حسنین مسلم زیدی نےمبینہ طورپر ڈپٹی ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی،کمشنر بہاولپور،چیف انجینئر ہائی وے،سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو کو دھوکے میں رکھ گرانٹ منظور کرالی،شہری نے محکمہ ہائی وے میں ہونیوالی اس میگا کرپشن کیخلاف وزیر اعلیٰ پنجاب،چیف سیکرٹری پنجاب،سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو کو درخواست اور لاہور ہائیکورٹ بہاولپور بینچ رٹ پٹیشن دائر کردی۔تفصیل کے مطابق محکمہ ہائی وے کے ایکسین حسنین مسلم زیدی نے ڈپٹی ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ،کمشنر بہاولپور،چیف انجینئر ہائی وے،سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو سمیت دیگر متعلقہ ہائی اتھارٹیز کو دھوکے میں رکھتے اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اقبال آباد تا موٹروے انٹرچینج کارپٹ روڈ کو دوبارہ تعمیر کرنے کیلئے 1 ارب 7 کروڑ روپے کی گرانٹ منظور کرکے ٹینڈر جاری کردئیے،اقبال آباد تا سی پیک موٹروے انٹرچینج کے مکینوں کے مطابق مذکورہ روڈ سابقہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں میانوالی قریشیاں سے تعلق رکھنے والے دو سابق وفاقی و صوبائی وزراء بھائیوں نے کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کروائی تھی جو ایک بہترین کارپٹ روڈ تھی اور اپنی بالکل صحیح حالت میں موجود تھی جسے محکمہ ہائی وے کے ایکسین حسنین مسلم زیدی نے ہائر اتھارٹیز کو دھوکے میں رکھ کر اسکو کشادہ کرنے کیلئے پوری روڈ کو اکھاڑ دیا اور اسی روڈ کا میٹریل دونوں اطراف جمع کرکے بغیر ری سائیکل کئے اسی روڈ پر استعمال کیا جارہا ہے،انٹر چینج روڈ کی اکھاڑ پچھاڑ کی وجہ سے رحیم یارخان شہر کو سی پیک سے ملانے والا راستہ بند ہوگیا جس کی وجہ سے اندرون شہر اور بیرون شہر سفر کرنے والوں کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوگیا،اقبال آباد کے مکینوں کے مطابق محکمہ پراونشل ہائی وے کی جانب سے اقبال آباد تا انٹرچینج تک سڑک کے اطراف آنیوالے آبادی کے مکینوں کو بھی نوٹس جاری کئے جا چکے ہیں کہ وہ روڈ کی کشادگی کی زد میں جو پرائیویٹ زمینں روڈ کی تعمیر میں آ رہی ہیں انہیں خالی کیا جائے اور اس مد میں ایکسین ہائی وے مکینوں سے لاکھوں روپے کی “چٹی”وصول کررہا ہے،ستم بالا ستم یہ کہ اقبال آباد تا انٹر چینج روڈ انتہائی مصروف ترین شاہراؤں میں شامل ہوتی ہے جیسے کشادگی کا نام پر ایکسین ہائی وے حسنین مسلم زیدی،ایس ڈی او حاجی محمد افضل،سب انجینئرز نے 50 کروڑ روپے کی کرپشن کرلی ہے اور سڑک کی تعمیر کا ابھی جاری ہے،ذرائع نے بتایا کہ پنجاب حکومت کے ترقیاتی کاموں میں اس روڈ کی کشادگی اور مرمت کا کوئی ٹینڈر پاس نہیں ہوا نہ ہی وزیر اعلیٰ پنجاب یا مقامی ن لیگی رہنماؤں نے اسکی تعمیر مرمت کیلئے کوئی احکامات جاری کئے ہیں،ایکسین ہائی وے حسنین مسلم زیدی نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے پنجاب سرکار کے خزانے سے 1 ارب 7 کروڑ کے خطیر رقم نکلوا کر اسکا آدھا حصہ کرپشن کے “گول”کرلیا ہے جبکہ بقایا رقم سے روڈ کی تعمیر کاکام جاری ہے،ذرائع نے بتایا کہ اقبال آباد تا انٹرچینج روڈز پر صرف 4 سے 5 انچ نیا پتھر ڈال کر اسکو نئے سرے سے تعمیر کیا جارہا ہے تاکہ مرمتی بجٹ کو استعمال کرکے بھاری رقم وصول کی جاسکے،محکمہ ہائی وے کے معتبر ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایکسین ہائی وے حسنین مسلم زیدی خود اس فرضی سکیم میں ٹھیکیدار کا سلیپر پارٹنر ہے جس کی وجہ سے اس پراجیکٹ میں میگا کرپشن کی جا رہی ہے جس کے خلاف رحیم یارخان کے شہری نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز،چیف سیکرٹری پنجاب،سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو،ڈائریکٹر جنرل انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو درخواست دیدی ہے لاہور ہائیکورٹ بہاولپور بینچ میں رٹ پٹیشن بھی دائر کردی ہے جس میں درخواست گزار نے موقف اپنایا ہے کہ اقبال آباد تا انٹرچینج تک کارپٹ روڈ کی تعمیر میں ایکسین حسنین مسلم زیدی 50 کروڑ روپے کی کرپشن کا مرتکب ہے۔واضح رہے کہ ایکسین پراونشنل ہائی وے حسنین مسلم زیدی کی کرپشن کے متعدد کیسز ہائی اتھارٹیز،محکمہ انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور اعلیٰ عدلیہ میں زیر سماعت ہیں مگر تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی آشیر اور سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو کا کماؤ پتر ہونے کی وجہ سے اسکے خلاف آج تک کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جاسکی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں