چولستان،گھربوں کی 3 لاکھ ایکڑ اراضی پنجاب حکومت کی قرار،نواب فیملی مالک نہیں ؛فیصؒہ

بہاولپور( کرائم سیل) کھربوں روپے مالیت کی 3لاکھ ایکڑ سے زائدسرکاری اراضی موسومہ شکارگاہ چولستان تحصیل یزمان ضلع بہاولپور سے سابق امیر آف بہاولپور کے ورثا کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ شکارگاہ کے رقبے کے مالک ہیں۔ نبیل جاوید چیف لینڈ کمشنر پنجاب /سینئرممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب لاہور کی سربراہی میں پنجاب لینڈ کمیشن بورڈ آف ریونیو پنجاب کے اجلاس میں فیصلہ سنادیاگیا، اجلاس کے فیصلہ میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ جات کی روشنی میں ڈپٹی سیکریٹری منسٹری آف سیفران اسلام آبادکے لیٹر کے جواب میں مورخہ23جنوری2025 کے مطابق صاف طور پر وضاحت کردی گئی ہے کہ شکارگاہ کا رقبہ مارشل لا ریگولیشن 1959کی دفعہ64 کے تحت بطور (Resume land) حکومت پنجاب کی ملکیت ہے۔ ڈپٹی سیکریٹری منسٹری آف سیفران اسلام آباد کے لیٹر کے جواب میں مزید تحریر کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ جات پر عمل درآمد کرنا اور ان فیصلہ جات کو تسلیم کرنا پاکستان کی تمام اتھارٹیز پابند ہیں 3 لاکھ ایکڑسے زائد شکارگاہ کی اراضی حکومت پنجاب کی ملکیت ہے۔ نواب آف بہاول پورکے ورثا شکارگاہ کے مالک نہیں ہیں تفصیل کے مطابق پنجاب لینڈ کمیشن بورڈ آف ریونیو پنجاب لاہور کی میٹنگ منعقدہ کمیٹی روم مورخہ 22جنوری 2025 بورڈ آف ریونیوپنجاب جوکہ سینئرممبرآف بورڈ ریونیو پنجاب کی زیرصدارت منعقد ہوا اجلاس میں کمشنر بہاولپور ڈویژن،لینڈ کمشنربہاول پور،ایم ڈی چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی بہاول پور، ڈپٹی کمشنر بہاولپور،ڈپٹی لینڈ کمشنر بہاول پور، ڈائریکٹر لیگل بورڈ آف ریونیو پنجاب، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو /لینڈ کمیشن بہاول پورشریک تھے میٹنگ میں ماتحت انتظامیہ اوردیگرکوحکم دیتے ہوئے فیصلہ کیاگیا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ کے فیصلہ جات کے خلاف کوئی جوڈیشل اورانتظامی آفیسران فیصلہ نہیں دے سکتا،سپریم کورٹ کے فیصلہ جات کے خلاف فیصلہ توہین عدالت کے زمرہ میں آتا ہے جس کے تحت تمام افسران سپریم کورٹ کے فیصلہ جات کے پابند ہیں اوراس مدمیں سپریم کورٹ کے فیصلہ جات کے تابع ورثا نواب آف بہاول پور صادق محمد عباسی شکارگاہ کے مالک نہ ہیں اورنہ ہی ان کوکسی قسم کے اس مد میں حکومت کی طرف سے کوئی ادائیگی کی جائیگی کیونکہ شکارگاہ چولستان حکومت پنجاب کی ملکیت ہے اورشکارگاہ سے نواب آف بہاول پرکے وارثان کا کوئی تعلق واسطہ نہ ہے حکومت پنجاب ہی شکارگاہ چولستان کی کسٹوڈین ہے۔اعلیٰ سطحی ہونے والی میٹنگ کے حوالے سے بہاولپور کی ڈوییزنل اور ضلعی انتظامیہ کو مورخہ 23جنوری 2025کو بورڈ آف ریونیو پنجاب کی طرف سے باقاعدہ احکامات بھی دے دیے گئے ہیں یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سابق امیر آف بہاولپور کے بعض وارثان یا انکے نمائندوں کی جانب سے بلا استحقاق شکارگاہ چولستان کی لاکھوں ایکڑ اراضی اسٹام پیپرز پر بیعنامہ جات تحریر کرکے فروخت کی جا چکی ہے۔ اگرچہ سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ لاہور محمد امیر بھٹی کی سربراہی میں ڈویژن بنچ کی جانب سے نواب صلاح الدین عباسی اور صاحبزادہ میاں عثمان عباسی وغیرہ کی جا نب سے دائر شدہ4عدد رٹ پٹیشن کے فیصلہ جات پر عمل کرتے ہوئے زرعی اصلاحات لاگو کردی جائیں تو سابق امیر آف بہاولپور کے 23وارثان صرف اور صرف 35/40ہزار ایکڑ کے مالک قرار پاتے ہیں لیکن عدالت عظمیٰ سپریم کورٹ آف پاکستان کے5رکنی بنچ کے فیصلہ کے مطابق شکارگاہ سرکاری اراضی ہے۔ سابق چیف جسٹس محمد امیر بھٹی کی سربراہی میں ڈویژن بنچ سے پٹیشنرز نے 5رکنی بنچ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ کو مخفی رکھا تھا۔ ذرائع کے مطابق برسراقتدار پارٹی ن لیگ اور پیپلز پارٹی زرداری گروپ کے علاوہ تحریک انصاف اور تمام سیاسی پارٹیوں سے وابستہ با اثر افراد اور مسلح قبضہ گروپوں نے بھی شکارگاہ کے سرکاری رقبے پر براہ راست یا وارثان سابق امیر آف بہاولپور سے بذریعہ اسٹام پیپرز اور منسوخ شدہ انتقالات کی بنیاد پر قبضہ کیا ہوا ہے اگرچہ عدالت عظمیٰ سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے چیف لینڈ کمشنر سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب نبیل جاوید نے سابق امیر آف بہاولپور کے 23وارثان کے نام منتقل شدہ لاکھوں ایکڑ اراضی پر زرعی اصلاحات کے تحت بحق سرکار رقبہ منتقلی کی کارروائی کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں سابق امیر آف بہاولپور کے 23وارثان کے نام منتقل رقبہ میں آگے منتقل شدہ 20 وارثان کے نام منظور شدہ انتقالات وراثت اور متعلقہ وارثان کی جانب سے دیگر لوگوں کو فروخت شدہ یا رشوت میں دی گئی اراضی کے تمام انتقالات بھی خارج کردیئے گئے تھے۔ سابق ڈپٹی لینڈ کمشنر بہاولپور نے زرعی اصلاحات کی کارروائی کا آغاز بھی کیانوٹس بھی جاری کئے گئے لیکن تاحال 23وارثان کے نام منتقل شدہ رقبے پر زرعی اصلاحات کے تحت عملی طور پر بحق سرکار رقبہ نہ تو واگزار کروایا گیا اور نہ ہی رقبہ بحق سرکار منتقلی کی کارروائی کی گئی ہے جسکی بنیادی وجہ بر سراقتدار پارٹی سے وابستہ طاقتور لوگ اور خصوصی طور پر نواب صلاح الدین عباسی اور صاحبزادہ میاں عثمان عباسی وغیرہ بتائے جاتے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں