بہاولپور ( کرائم سیل) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے احکامات بہاولپور پہنچتے پہنچتے اپنا اثر کھو بیٹھے اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے واضح احکامات کے باوجود دس کروڑ روپے کی جائیداد کو ہاتھوں سے نکلتا دیکھ کر اپنی منکوحہ پروین بی بی کو تیز دھار آلے سے ناک کان کاٹ کر زخمی کرکے غیرت کا نام دینے والے رئیس عبدالوحید کو تھانہ اوچ شریف کی پولیس سیاسی شخصیات کی مبینہ سرپرستی کی وجہ سے گرفتار کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکی۔ پولیس نے اس کے بیٹے کو گرفتار کر رکھا ہے اور ایس ایچ او اوچ شریف لطیف جھورڑ نے کہا ہے کہ بیٹے کو بچانےکیلئےخود ہی آجائے گا جبکہ رئیس عبدالوحید کے بارے میں جو معلومات ملی ہیں ان کے مطابق وہ قبضہ گروپ کا سرغنہ بدمعاش اور اوباش طبیعت کا مالک ہے۔ بہاولپور ضلع میں لڑائی جھگڑے ،لوگوں کی زرعی زمینوں پر قبضے اور قتل و غارت کے کئی مقدمات میں ریکارڈ یافتہ ہے جس کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ رئیس عبدالوحید کے احمد پور شرقیہ کے مقامی سیاستدانوں کے ساتھ قریبی مراسم ہیں اور انہی سیاسی شخصیات کی سرپرستی اور انہی سیاسی شخصیات کے قبضے کرتا ہے اس کے علاوہ احمد پور شرقیہ میں دہشت کی علامت سمجھے جانے والے رئیس عبدالوحید مبینہ طور پر بسوں اور گاڑیوں سے بھتہ خوری بھی کرتاہے ۔قبضہ اور بھتہ خوری کے ساتھ قتل کے مقدمات میں لمبا عرصہ جیل میں بھی گزار چکا ہے جس سے اس کے حوصلے بلند ہوگئے اور پرائی جا ئیداد کے لالچ میں اپنی ہی منکوحہ پروین بی بی کا ناک، کان کاٹ دیئے ۔اہل علاقہ کے مطابق کچھ عرصہ قبل جب پروین بی بی کا سابقہ شوہر فوت ہوا تو اسکی وراثتی جا ئیداد جو کہ اسکے خاوند کو والدین کی جانب سے لاڈ پیار کی وجہ سے دوسرے بہن بھائیوں سے زیادہ تھی اسکے حصول کیلئے پروین بی بی اور اسکے سسر کے درمیان تنازعہ چل پڑا اور جائیداد کے حصول کے لیے کیس عدالتوں میں چل پڑے تو اوباش فطرت رئیس عبدالوحید کا پروین بی بی کے ساتھ میل میلاپ بڑھا اور پروین بی بی کے سسر سے جا ئیداددلوانے کے بہانے اسے بلیک میل کرکے شرعی نکاح کرلیا اور کروڑوں روپے کی پرائی جا ئیداد کو ہاتھوں سے نکلتا دیکھ کر اس قسم کی شرمناک حرکت کرتے ہوئے اپنی ہی منکوحہ کو زخمی کردیا اور اب مقامی پولیس کو رام کرکے اپنی اس لالچ کو غیرت کا نام دینے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہے جبکہ اطلاعات کے مطابق مقامی حکومتی عہدے دار پولیس کی گرفتاری سے روک رکھا ہے۔اہل علاقہ سے جو معلومات ملی ہیں ان کے مطابق کچھ عرصہ قبل جب رئیس عبدالوحید عمرہ کے لیے گیا تو پروین بی بی کے سسر نے بہو کو یہ سمجھا کر صلح کرلی کہ کل بھی جا ئیداد ان بچوں کی تھی آج بھی انہی یتیم بچوں کی ہے اور آئندہ بھی انہی بچوں کی ہے آپ جا ئیدادکے معاملے میں انہیں دور رکھو۔عمرہ سے واپسی پرجا ئیداد کا پاور آف اٹارنی حاصل کرنے کی کوشش میں ناکامی پر رئیس عبدالوحید نے اپنے غنڈوں کے ہمراہ گھر میں داخل ہو کر یہ حملہ کردیا۔رئیس عبدالوحید کی اس حرکت پر رئیس برادری کے سرکردہ افراد نے اسے غلط فعل قرار دیتے ہوئے رئیس عبدالوحید کی کسی قسم کی پیروی نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بہت جلد پولیس کو پیش کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں اور بہت جلد پولیس کی جانب سے گرفتاری متوقع ہے۔اطلاعات کے مطابق علاج معالجے کےبعد زخمی پروین بی بی کو وکٹوریہ ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ہے۔






