چھبیسویں آئینی ترمیم کو ختم کرنے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو حاصل:بلاول

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر کوئی ادارہ 26ویں آئینی ترمیم کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا تو یہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے، اور آئین کو رول بیک کرنے کا کوئی جواز نہیں۔

وفاقی کابینہ کا حصہ بننے سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ وہ کابینہ کا حصہ نہیں بن رہے۔ سابق وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے آئندہ حکومت کی پانچ سالہ مدت پوری کرنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ انشاءاللہ ایسا ہوگا۔

جیوپولیٹیکل حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال کے پیش نظر چین اور امریکا کے درمیان تعلقات سب کے سامنے ہیں۔ چین کے صدر کو دعوت دینے کے بعد بھارت کی نمائندگی کا فیصلہ ضروری تھا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی مستحکم ہے، جبکہ پاکستان کے نیوکلیئر اثاثے اور میزائل ٹیکنالوجی ذوالفقار علی بھٹو کی کاوش اور بے نظیر بھٹو کی امانت ہیں۔

سپریم کورٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ججز کو آپس میں سہولت پیدا کرنی چاہیے، نہ کہ مشکلات۔ ان کا کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے رول بیک کا کوئی جواز نہیں اور یہ روایت نہیں بننی چاہیے۔

انہوں نے زور دیا کہ بینچ یا سپریم کورٹ ہو، دونوں کو آئین و قانون کی پاسداری کرنی ہوگی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں