ملتان (سٹاف رپورٹر) سپریم کورٹ آف پاکستان میں دائر شدہ رٹ پٹیشن نمبر 7/2024 بعنوان “آل پاکستان یونیورسٹیز بی پی ایس ٹیچر ایسوسی ایشن بنام فیڈریشن آف پاکستان” کے کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے ملک بھر کی یونیورسٹیوں کی گورننگ باڈی، بورڈ آف گورنرز، بورڈ آف ٹرسٹیز، سنڈیکیٹس، سینیٹ اور اکیڈمک کونسلز کی میٹنگز کی قوانین کے مطابق کم از کم مقررہ مدت میں انعقاد کے واضح فیصلے پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت کسی بھی یونیورسٹی نے عمل نہ کیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی غیر قانونی تعیناتیوں کے کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے واضع ہدایات جاری کی تھیں کہ یونیورسٹیوں کی گورننگ باڈیز بورڈ آف گورنرز، بورڈ آف ٹرسٹیز، سنڈیکیٹس، سینیٹ اور اکیڈمک کونسلز کی میٹنگز کا انعقاد قوانین کے مطابق کم از کم مقررہ اوقات میں ضرور ہونا چاہیے مگر حیران کن طور پر ملک بھی کی بیشتر یونیورسٹیوں میں اس کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور ابھی بھی ان کی گورننگ باڈیز سینڈیکیٹ، اکیڈمک کونسل کی فارمیشن ان یونیورسٹیوں کے ایکٹ کے مطابق نہ ہے۔ بعض یونیورسٹیوں میں ان گورننگ باڈیز کے لیے یونیورسٹیوں کے اپنے اپنے غیر قانونی “قانون” کے مطابق مختلف کمیٹیوں اور نمایندوں کی تعیناتی کے لئے الیکشن ہی منعقد نہیں کروائے جاتے اور پھر ان یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز ان غیر قانونی باڈیز کی میٹنگز سالہا سال تک منعقد نہیں ہونے دیتے جس سے یونیورسٹیوں کی تدریسی اور انتظامی پرفارمینس خراب ہونے کے باعث تنزلی کا شکار ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں دائر اس کیس میں سپریم کورٹ نے این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے غیر قانونی طور پر قابض وائس چانسلر ڈاکٹر اختر علی ملک کالرو کو برطرف کرتے ہوئے 6 سال اور 4 ماہ کی 8 کروڑ سے زائد تنخواہوں و دیگر مراعات کی ریکوری کا بھی حکم صادر فرمایا تھا، برطرف وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو غیر قانونی سینڈیکیٹ بنا کر 12 سال، 4 ماہ تک اسی غیر قانونی سینڈیکیٹ کو استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی فیصلے کروائے اور غیر قانونی منظوریاں لیں۔حتی کہ غیر قانونی اور برطرف وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو جن کے پاس صدر پاکستان کی طرف سے 2017 کی برطرفی کے بعد کوئی بھی تقرری یا توسیعی لیٹر موجود نہیں تھا وہ بھی اسی غیر قانونی سینڈیکیٹ کو استعمال کرتے ہوئے سینڈیکیٹ سے اپنی مزید ہر سال کی غیر قانونی منظوریاں لیتے رہے۔ جو کہ تعلیم کے شعبے میں ایک بہت بڑا دھوکہ تھا۔ آخر کار سپریم کورٹ آف پاکستان نے این ایف سی یونیورسٹی ملتان کی غیر قانونی قابض وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو سے یونیورسٹیوں کی جان چھڑائی۔ ان تمام گورننگ باڈیز جس میں سینڈیکیٹ، اکیڈمک کونسل وغیرہ شامل ہیں، کی فارمیشن اور انعقاد کے بارے میں متعدد شکایات وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو بھی کی جا چکی ہیں مگر ہائیر ایجوکیشن کمیشن نا صرف کوئی قدم اٹھانے سے قاصر ہے بلکہ اس کمشن کی طرف سے سالہا سال گزرنے کے باوجود کوئی طریقہ کار طے نہیں کیا گیا۔ اور نہ ہی کوئی پالیسی طے کی گئی ہے جس کی بابت ملک کی بیشتر یونیورسٹیاں تباہی اور بربادی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 20 ستمبر 2024 کو سپریم کورٹ سے زبانی برطرفی کے باوجود ڈاکٹر اختر کالرو 24 اکتوبر 2024 کے تحریری فیصلے تک 35 دن مسلسل وائس چانسلر کی کرسی پر قابض رہے اور بہت سے غیر قانونی فیصلے بھی کرتے رہے۔ جس میں اپنے علاقے نواب پور کے 68 ملازمین کی تعیناتیاں بھی شامل تھیں جبکہ اختر کالرو یہ بھی جانتے تھے کہ ان کو زبانی طور پر برطرف کر دیا گیا ہے۔ اور یہ سب تعیناتیاں غیر قانونی ہو جائیں گی مگر ختم ہوتی نظر آتی علاقائی سیاست کے باعث تمام غیر قانونی تعیناتیاں اور منظوریاں غیر قانونی سینڈیکیٹ کی میٹنگ بلا کر کرتے رہے۔






