بہاولپور؛اسلحہ ڈکیتی معمہ بن گئی، پولیس گمشدہ رائفلز،رپیٹر،پسٹلز سے تخریب کاری کی منتظر

ملتان( قوم ریسرچ سیل) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے بہاولپور کے دورے سے قبل رات کو تھانہ کوتوالی کی حدود میں اسلحہ ڈیلر کی دوکان پر بڑی تعداد میں اسلحہ کی ہونے والی ڈکیتی کی واردات سے پہلے تو پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے کہ کہیں یہ بڑی تعداد میں اسلحہ اور ایمونیشن وزیر اعلیٰ کے پروگرامز کے دوران تخریب کاری میں استعمال نہ ہو جائے اسلئے پولیس نے دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی مدد سے مختلف پروگراموں میں سیکورٹی میں غیر معمولی اضافہ کیا مگر اسکے بعد اسلحہ ڈیلر کی دکان میں پچاس لاکھ روپے سے اوپر کا اسلحہ و ایمونیشن ڈکیتی ہوئے 10روز سے اوپر گزر جانے کے باوجود واردات ٹریس نہ کرسکنا پولیس،ضلعی انتظامیہ سمیت دیگر خفیہ اداروں کی سکیورٹی نظام بارے ایس او پیز کا بھرم کھول کے رکھ دیا ہے۔وزارت داخلہ کی ایس او پیز کے مطابق اسلحہ ڈیلر کی دوکان میں اسلحہ رکھنے کے لیے سٹرانگ روم ہونا ضروری ہے جو کہ مضبوط ہو اس کا دروازا فولاد کا ہو مکمل کنکریٹ شدہ ہو چوبارے پر نہیں ہونا چاہیے اور اسکے علاوہ دوکان کے شٹر کے سامنے لوہے کی کینچی گرل حفاظت کے لیے ہونا ضروری ہے۔دوکان کی فوٹیج ریکارڈنگ کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کے علاوہ تین مضبوط قسم کے تالے گرل ،شٹر،اور سٹرانگ روم اسلحہ کی حفاظت کے لیے ایس او پیز کے مطابق ہونا ضروری ہے مگر اطلاعات کے مطابق بہاولپور میں سابقہ انچارج اسلحہ برانچ جی ایم کی بھاری خدمت کے عوض بہاولپور کے متعدد اسلحہ ڈیلرز کو ان ایس او پیز سے استثنیٰ حاصل ہے اور حیران کن امر یہ ہے کہ قانوناً مختلف ایجنسیاں ان ایس او پیز کی چیکنگ کے بعد رپورٹ کرتی ہیں اور ایڈشنل ڈپٹی کمشنر ان ایس او پیز کی نگرانی کرتے ہیں مگر اتنے سخت انتظامات کے باوجود محمد سعید نامی اسلحہ ڈیلر نے تھانہ کوتوالی میں درج کروائے مقدمے میں موقف اختیار کیا کہ میں النور پلازہ میں رجسٹرڈ اسلحہ ڈیلر ہوں مورخہ 11/12 جنوری کی درمیانی شب کو تین نامعلوم افراد نے ڈکیتی کی گیارہ رائفلز ،ایک رپیٹر انیس پسٹل اور بڑی تعداد میں ایمونیشن گارڈ کو باندھ کر لے گئے ہیں مگر حیران کن امر یہ ہے کہ دکان کے تالے نہ کاٹے گئے ہیں اور نہ ہی توڑے گئے ہیں مگر اسلحہ غائب ہے اور ابھی تک نہیں ملا جو کہ کسی بھی وقت کسی بڑی تخریب کاری میں استعمال ہوسکتا ہے جو کہ ڈپٹی کمشنر بہاولپور اور ڈی پی او بہاولپور کے لیے لمحہ فکریہ ہے، اس کے علاوہ دیکھنا یہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر بہاولپور دیگر اسلحہ ڈیلروں کی دوکانیں ایس او پیز کے مطابق چلوانے کے لیے کیا احکامات جاری کرتے ہیں یا جو ہے جیسا ہے جہاں ہے کی بنیاد پر سابقہ روایات کی طرح چلتا رہے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں