لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور-کوٹ ادو: ظالم تھانیدار کی سفاک تفتیشی بیٹی کا نجی ٹارچر سیل میں مانی پر غیرانسانی تشدد-کوٹ ادو: ظالم تھانیدار کی سفاک تفتیشی بیٹی کا نجی ٹارچر سیل میں مانی پر غیرانسانی تشدد

تازہ ترین

چیٹ جی پی ٹی کے خالق کی چونکا دینے والی پیشگوئی

چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی کے سی ای او سام آلٹمین نے ایک پوڈکاسٹ میں مصنوعی ذہانت (AI) کے مستقبل کے حوالے سے حیران کن پیشگوئی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ AI بہت جلد انسانی ذہانت کو پیچھے چھوڑ دے گی، اور یہ تصور آنے والی نسلوں کے لیے فطری حقیقت بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ AI ٹیکنالوجی ایسی صلاحیتیں حاصل کر لے گی جو انسانوں کے لیے ناممکن سمجھی جاتی ہیں۔

سام آلٹمین کا ماننا ہے کہ مستقبل میں خام ذہانت کی اہمیت کم ہو جائے گی، اور لوگوں کو سوالات کرنے کی مہارت پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ AI کے ساتھ انسانی رابطے میں جدت آئے گی، اور ہمیں اس سے مؤثر طور پر جڑنے کے لیے نئے طریقے اپنانے ہوں گے۔ ان کے مطابق، سادہ سوالات پوچھنے کا موجودہ طریقہ مستقبل میں متروک ہو جائے گا۔

انہوں نے مثال دی کہ جیسے شطرنج کے آن لائن ماڈلز نے ابتدا میں انسانوں سے شکست کھائی، مگر وقت کے ساتھ وہ انسانوں سے بہتر ہو گئے، ویسا ہی AI کے ساتھ ہوگا۔ تاہم، ان کا ماننا ہے کہ انسان نئی مہارتیں سیکھ کر حالات کے مطابق خود کو ڈھال لیں گے اور ملازمتوں سے محروم نہیں ہوں گے۔

سام آلٹمین کے مطابق، تاریخ گواہ ہے کہ ہم ہمیشہ نئی ٹیکنالوجیز کو اپناتے ہیں اور نئے مواقع پیدا کرتے ہیں۔ AI ٹیکنالوجی ہماری زندگیوں میں انقلاب لائے گی، لیکن انسانوں کو اپنی سوچنے اور کام کرنے کے انداز کو بدلنا ہوگا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں