
بہاولپور ( کرائم سیل) سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس ملک محمد فرخ محمود کے بہاولپور میں واقع آبائی رقبے سے اغوا ہونے والے مجید آباد کالونی بہاولپور کے رہائشی نوجوان کامران عرف لاٹو کے پولیس تھانہ صدر کی روایتی بے حسی اور غفلت کے باعث قتل ہونے کی افواہیں پھیل رہی ہیں اور پولیس جاننے کے باوجود اغوا کے مرکزی ملزم بقااللہ کو ابھی تک گرفتار نہیں کر سکی اور نہ اسے شامل تفتیش کیا گیا ۔ بقا اللّہ جو کہ جسٹس(ر) فرخ محمود کا مستاجر ہے کے بارے میں یہ افواہ گردش کر رہی ہے کہ اس نے کامران عرف لاٹو کو مبینہ ناجائز تعلقات کے شبے میں پہلے سر پر گولی مار کر قتل کیا اور پھر لاش کو جلا دیا اور اب اس قتل کو لین دین کا رنگ دیا جا رہا ہے جبکہ ذرائع کے مطابق ریٹائرڈ جسٹس نے بہاولپور پولیس کو واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ چونکہ اس کیس میں میرے مزارع کا نام آرہا ہے اور رقبہ بھی میرا ہے اس لئےمیرٹ کا سو فیصد خیال رکھا جائے اور اگر کوئی میرا یا میرے خاندان کا نام استعمال کرے تو اسے بھی شامل تفتیش کیا جائے اور یہ جو بھی وقوعہ ہوا ہے خواہ اغوا ہے یا قتل، سو فیصد میرٹ کا لحاظ رکھا جائے ۔ تفصیلات کے مطابق مورخہ 17 جنوری کو محمد عدنان نے تھانہ صدر بہاولپور میں درج کروائے مقدمے میں موقف اختیار کیا کہ میرے بھائی کا بقا اللہ کے ساتھ لین دین ہے گزشتہ روز میرا بھائی سمال انڈسٹری گیا مگر ابھی تک واپس نہ آیا ہے جس پر پولیس نے اغوا کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی۔عینی شاہدین کے مطابق مدعی مقدمہ نے پولیس کو بقااللہ کو گرفتار کر کے تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا اور اے ایس پی صدر آغا فصیح الرحمان نے بھی ملزم کو گرفتار کرنے کے احکامات دیئے مگر پولیس نے روایتی بے حسی اور غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے صرف لین دین کا تنازعہ سمجھا اور مدعیوں اور افسران کے کہنے کے باوجود بقا اللہ کو گرفتار نہ کیا جو رفو چکر ہو چکا ہے۔اطلاعات کے مطابق جلال پور کے ایک مقامی زمیندار نے بقا اللہ کے بھانجے احسان کو پولیس تھانہ صدر کو پیش کیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے پہلے کامران عرف لاٹو کو گولی مار کر ہلاک کیا اور پھر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی مگر آخری اطلاعات موصول ہونے تک ابھی تک پولیس مقتول کی ہڈیاں اور کسی قسم کے قتل کی ٹھوس شہادت حاصل نہیں کر سکی اور پولیس نے میڈیا نمائندگان کو فارم ہاؤس سے دور رکھا ہوا ہے ۔ یاد رہے کہ بقا اللہ گزشتہ دو سال سے اس ایک مربع رقبے کو کاشت کر رہا تھا ۔کامران عرف لاٹو کے ساتھ دوستی بھی تھی اور انکا لین دین بھی تھا۔اس سلسلے میں پولیس نے ابھی تک کوئی موقف نہیں دیا جبکہ ریٹائرڈ جسٹس ملک محمد فرخ محمود نے کہا کہ رقبہ میرا ہے۔ بقا اللہ نے اس سال کا ٹھیکہ بھی مجھے دیا ہوا ہے جب کہ میں اسکی کسی ایکٹویٹی کا ذمہ دار نہیں اور پولیس کو بھی سو فیصد میرٹ پرعمل کرنے کیلئے کہا ہے۔
نوجوان قتل خدشہ






