جامعات میں سٹو ڈنٹس یونینز بحال نہ ہو سکیں، سپریم کورٹ کا ایک اور فیصلہ 2 ماہ سےعملدردآمد کا منتظر

ملتان (میاں غفار سے) سپریم کورٹ آف پاکستان میں دائر شدہ رٹ پٹیشن نمبر 7/2024 بعنوان ’’آل پاکستان یونیورسٹیز بی پی ایس ٹیچر ایسوسی ایشن بنام فیڈریشن آف پاکستان‘‘ کے کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے ملک بھر کی یونیورسٹیز میں سٹوڈنٹس یونینز کی بحالی کے واضح فیصلے پردو ماہ بعد این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے علاوہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت کسی بھی یونیورسٹی نے عمل نہ کیا۔ تفصیل کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی غیر قانونی تعیناتیوں کے کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے یہ ہدایات جاری کی تھیں کہ یونیورسٹیوں میں طلبہ یونینز کو بحال کیا جائے لیکن اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یونیورسٹیوں میں بنائی جانے والی سٹوڈنٹس یونینز نسلی یا فرقہ ورانہ بنیادوں پر نہ ہوں بلکہ مثبت انداز میں طلباء و طالبات کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر سکیں۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس کیس میں این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے غیر قانونی طور پر قابض وائس چانسلر ڈاکٹر اختر علی ملک کالرو کو برطرف کرتے ہوئے 6 سال اور 4 ماہ کی تنخواہوں کی ریکوری کا بھی حکم صادر فرمایا تھا، جو کہ 8 کروڑ سے زائد بنتی ہے اور یہ اعزاز روزنامہ قوم کو حاصل ہے کہ روزنامہ قوم نے ایک سال اور تین ماہ کی مسلسل جدوجہد سے این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر کی عہدے پر قابض ڈاکٹر اختر کالرو کو غیر قانونی ثابت کیا اور این ایف سی یونیورسٹی ملتان کو غیر قانونی تعینات وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو سے جان چھڑائی۔ تعلیمی حلقے وفاقی وزارت تعلیم اور وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ معظم اعجاز سے درخواست کرتے ہیں کہ ڈاکٹر اختر کالرو سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے آرڈر کے تحت ریکوری بھی کی جائے ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں