ملتان (سٹاف رپورٹر) بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے جنرل باڈی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی جس میں اساتذہ نے صدر اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن ڈاکٹر عبدالستار ملک کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ اپریل 2024 میں حلف اٹھانے کے بعد پچھلے نو ماہ سے صدر ایسوسی ایشن، جنرل سیکرٹری اور انکی ٹیم کی موجودگی کا احساس ہی نہیں ہو رہا۔ تفصیل کے مطابق بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی کا اجلاس 16 جنوری 2025 کو جناح آڈیٹوریم میں منعقد ہوا جس میں تلاوت کلام پاک اور نعت رسول کے بعد وفات پانے والے اساتذہ کرام، ریٹائرڈ اساتذہ و ملازمین اور وفات پانے والے رشتہ داروں کے لیے دعائے مغفرت کی گئی ۔جنرل باڈی کے ممبران کی تعداد تقریباً 590 ہے جبکہ حاضرین کی تعداد 90 کے لگ بھگ تھی جس سے جنرل باڈی کے اجلاس کا کورم ہی پورا نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ اے ایس اے کے عہدے داروں سمیت ڈاکٹر علیم احمد خان، ڈاکٹر عبدالقدوس صہیب، ڈاکٹر سیما محمود، ڈاکٹر ارم اعوان، ڈاکٹر زاہدہ عزیز سیال، ڈاکٹر طاہر اشرف، ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ، ڈاکٹر امتیاز وڑائچ، ڈاکٹر شہزادہ فہد، ڈاکٹر عبدالمجید، ڈاکٹر فواد، ڈاکٹر محمد عمر چوہدری اور ڈاکٹر مقرب اکبر نے خطاب کیا۔ اجلاس کے آغاز سے ہی جنرل باڈی کے ممبران کی جانب سے اے ایس اے کی کارکردگی پر منتخب ممبران کو آڑے ہاتھوں لیا گیا۔ اساتذہ کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے اساتذہ کمیونٹی کا مسلسل استحصال کیا جا رہا ہے اور اس موقع پر اے ایس اے کیا کر رہی ہے۔ صدر صاحب 9 ماہ سے غائب ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جنرل باڈی اجلاس کا کوئی مناسب وقت نہیں کیونکہ رواں ہفتے میں امتحانات جاری ہیں اور فیکلٹی امتحان میں مصروف ہے۔ سارا سال گزرنے کے بعد یہ جنرل باڈی کا پہلا اجلاس ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ منتخب ممبران اساتذہ کمیونٹی کو سننا نہیں چاہتے اور یہ اجلاس صرف اپنی شرمندگی کو کم کرنے کے لیے بلایا گیا۔ اساتذہ کا مزید اعتراض تھا کہ خط میں ایجنڈا دیا ہی نہیں گیا ہے جبکہ منتخب ممبران جانتے ہیں کہ کمیونٹی کے مسائل کیا ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر عبدالقدوس صہیب نے انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ورک لوڈ کا بڑھایا جانا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اے ایس اے نے اس تناظر میں کوئی اقدامات نہیں کیے ہیں۔ڈاکٹر عبدالقدوس نے وائس چانسلر کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کو نجی کمپنی کی طرح چلایا جا رہا ہے۔ اس وقت تیسرا سال رواں ہے اور سلیکشن بورڈز زیر التواہیں۔ کوئی بورڈ کوئی اشتہار نہیں جاری کروایا گیا۔ ایک اور پروفیسر کے مطابق یونیورسٹی میں گیس کا بہت بڑا مسئلہ رہا اور اب یہ حالت ہے کہ یونیورسٹی میں گیس بند ہے۔ کیا صدر اور جنرل سیکرٹری اے ایس اے نے اس پر کوئی قدم اٹھایا۔ FBR کے25% چھوٹ کے معاملے پر بھی اے ایس اے خاموش ہے۔ پروفیسرز کا پٹرول صرف 3 کروڑ کا ہے۔ جب کہ اکاؤنٹس افس کی جانب سے غلط اعداد و شمار وائس چانسلر کو بتائے گئے اور تخمینہ 26 کروڑ بتایا گیا۔ اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟ یونیورسٹی میں اخراجات کو بچانے کی آڑ میں بدعنوانی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ فیکلٹی کی کٹوتی سے کوئی فرق نہیں پڑنا۔ ڈاکٹر محمد عمر چوہدری کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی طرف سے ڈیپارٹمنٹس کو کہا جا رہا ہے کہ ہر ڈیپارٹمنٹ پر ایک میٹر انسٹال کروائیں اور وہ میٹر بھی ڈیپارٹمنٹ کے فنڈ سے کروائیں جبکہ ڈیپارٹمنٹ کے پاس اتنا فنڈ نہیں ہوتا کہ وہ بجلی کے میٹرز بھی اپنے ڈیپارٹمنٹ فنڈ سے لگوائیں۔ سٹیشنری کی خریداری پر فکس ٹیکس کے علاوہ بھی آڈٹ ڈیپارٹمنٹس والے 5% زائد کس حوالے سے کاٹ رہے ہیں۔ بڑے مگرمچھ عیاشیاں کر رہے ہیں جبکہ اساتذہ کرام کی چھوٹی چھوٹی کٹوتیاں کرکے اور ورک لوڈ بڑھا کر یہ پورا کیا جا رہا ہے۔ سائیکالوجی ڈیپارٹمنٹ کی چیئر پرسن ڈاکٹر ارم اعوان، ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی ڈاکٹر زاہدہ عزیز سیال، فارمیسی کے ڈاکٹر عبدالمجید اور دیگر نے عرصہ دراز تک اہلیت کے باوجود ترقی نہ ملنے پر اے ایس اے اور یونیورسٹی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ بتایا گیا ہےکہ بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے متعدد ایسوسی ایٹ پروفیسرز سلیکشن بورڈ نہ ہونے کے باعث ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچنے کے قریب ہیں۔ کیا 9 ماہ میں اے ایس اے نے اس کے لیے کوئی کوشش کی یا انتظامیہ سے بات کی؟ ڈاکٹر طاہر اشرف نے سٹیج پر مائیک پر کہا کہ ڈاکٹر عبدالستار ایک طرف کہتے ہیں کہ میں بطور صدر فیکلٹی کے ساتھ ہوں جبکہ ساتھ ساتھ پراجیکٹ ڈائریکٹر سمیت مختلف عہدے لے کر انتظامیہ کا بھی بھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔ انہوں نے محاورتاً کہا کہ صدر صاحب ایک ہی چولہ (لباس) پہنیں۔ اور جو مینڈیٹ لے کر اے ایس اے بنی تھی انہوں نے ایسے مینڈیٹ کے مطابق کچھ نہیں کیا ۔ 25 سے 30 پی ایچ ڈی لیکچرارز ابھی تک اسسٹنٹ پروفیسر بننے کے منتظر ہیں۔ اساتذہ کی جانب سے ٹینور ٹریک اساتذہ کو ترقی اور مراعات نہ ملنے پر بھی تنقید کی گئی۔ آخر میں صدر اے ایس اے ڈاکٹر عبدالستار ملک اور سیکرٹری ڈاکٹر خاور نوازش نے سارا کا سارا ملبہ یونیورسٹی انتظامیہ پر ڈال دیا۔






