ملتان (سٹاف رپورٹر) یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد منیر نے ریٹائرڈ پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف اقبال، جنہوں نے پنشن میں اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے وی سی آفس کے سامنے خودکشی کی دھمکی دی تھی کی پنشن میں پہلے جزوی اضافہ کیا مگر ڈاکٹر محمد اشرف اقبال کی جانب سے مکمل اضافے تک اور باقی ریٹائرڈ ملازمین اور موجودہ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے تک اپنی خودکشی کی ڈیڈ لائن برقرار رکھنے کی دھمکی کے بعد اب مکمل اضافہ کر دیا گیا ہے مگر ڈاکٹر محمد اشرف اقبال کے مطابق تاحال ان کی پینشن میں 2024 کا ایڈہاک کا اضافہ نہیں کیا جا رہا۔ تفصیل کے مطابق خود کشی کی دھمکی کے بعد ڈاکٹر محمد اشرف اقبال کی مکمل پنشن بحال کر دی لیکن پنجاب حکومت کے اعلان کردہ انکریمنٹ کو شامل نہیں کیا۔ ڈاکٹر محمد اشرف اقبال کے مطابق ابھی بھی لوئر کیڈر کے عملے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں روزنامہ قوم کا شکر گزار ہوں جو میری آواز بنے اور جنہوں نے مجھے سپورٹ کیا اور میرے کچھ دوستوں نے مجھے اپنی خودکشی کی دھمکی سے دستبردار ہونے کو کہا۔اور یہ آپ کی اور دوستوں کی مشترکہ کاوشوں سےمیری مکمل پنشن بحال کر دی گئی ہے- مجھے ابھی UET کے رجسٹرار کی طرف سے ایک تفصیلی خط موصول ہوا ہے اور چونکہ اب انہوں نے میرا ایک بڑا مطالبہ مان لیا ہے، میں اپنی خودکشی کی دھمکی واپس لیتا ہوں۔ باقی جہاں تک پنشن میں انکریمنٹ کو شامل کرنے کی بات ہے جو کہ پنجاب حکومت نے پچھلے سال کے بجٹ میں اعلان کیا تھا۔ لیکن میں پھر بھی مطالبہ کرتا ہوں کہ کم کیڈر کے ملازمین اور ان کو پنشن انکریمنٹ کی سہولت فراہم کی جائے۔ اس لیے یو ای ٹی پروفیسرز (بشمول مجھ) یا اعلیٰ گریڈ کے اہلکاروں کے لیے پنشن انکریمنٹ بحال نہیں کر سکتی لیکن انسانی ہمدردی کی بنا پر حکومت پنجاب کی جانب سے تمام کم کیڈر کے ملازمین کے لیے اعلان کردہ پنشن انکریمنٹ کو بحال کرنے کے لیے اپنی پوری کوشش کروں گا۔ کیونکہ موجودہ مہنگائی میں ان میں سے اکثر ایک دن میں ایک اچھا کھانا بھی نہیں کھا سکتے۔ نچلے کیڈر کے لوگوں کو صرف انکریمنٹ دینے کے لیے درکار کل رقم اتنی نہیں ہو گی جتنی پنشن انکریمنٹ کا بڑا حصہ اعلیٰ کیڈر کو جاتا ہے، ہم مظلوم طبقات کا خیال رکھ کر انسانیت کو مرنے سے بچا سکتے ہیں، میں نے ساری زندگی مظلوم انسانیت کے لیے لڑی ہے اور آئندہ بھی لڑتا رہوں گا۔






