ملتان (سٹاف رپورٹر) بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے سوشل سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے ڈین ڈاکٹر عمر فاروق زین اور چیئرمین پاکستان سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر جاوید اختر سلیانہ جوڈائریکٹر اکیڈمکس کے عہدے پر بھی فائض ہیں کے درمیان ڈیپارٹمنٹل معاملات میں اختلافات اس حد تک بڑھ گئے کہ بات گالم گلوچ اور دست و گریباں تک آگئی تفصیل کے مطابق ڈاکٹر جاوید اختر سلیانہ جو کہ بہا الدین زکریا یونیورسٹی کے پاکستان سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین ،چیئرمین ایڈمیشن اور ڈائریکٹر سمیت تین عہدوں پر فائز ہیں اپنی گاڑی پر یونیورسٹی کی حدود میں سنٹرل کنٹرول سکیورٹی روم کے سامنے ایڈمن چوک پر موجود تھے کہ ڈین سوشل سائنسز عمر فاروق زین بھی موقع پر آگئے دونوں پروفیسر حضرات کے درمیان ڈیپارٹمنٹل اختلافات کافی عرصے سے جاری تھے مگر سکیورٹی کنٹرول روم چوک کے سامنے دونوں پروفیسر حضرات کے درمیان کسی بات پر اختلاف شروع ہو گیا اور بات اس حد تک بڑھ گئی کہ گالم گلوچ اور دست و گریباں کی نوبت آگئی۔ تعلیمی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی ایک دوسرے پر جھوٹی الزام تراشی پر اتر آئے۔ دونوں کے درمیان ڈیپارٹمنٹل اختلافات اس حد تک بڑھ گئے کہ دونوں پروفیسر حضرات نے رجسٹرار اور وائس چانسلر کو ایک دوسرے کے خلاف کارروائی کے لئے درخواستیں جمع کروا دی ہیں اور بات یہاں تک بھی ختم نہیں ہوئی بلکہ معاملات تھانہ کچہری تک بھی جا رہے ہیں۔ اس بارے میں جب ڈاکٹر جاوید اختر سلیانہ سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ میں اپنی گاڑی میں واٹس ایپ پر مصروف تھا کہ ڈاکٹر عمر فاروق زین نے آکر پہلے گاڑی پر مکا مارا پھر گالم گلوچ کرتے ہوئے پتھر برسانا شروع کر دیئے تو میں نے سکیورٹی کنٹرول روم میں بھاگ کر اپنی جان بچائی۔ انہوں نے بتایا کہ وائس چانسلر کو درخواست دے دی ہے امید ہے کہ وہ وہ اس پر قانونی کارروائی کریں گے۔ اس خبر کی بابت جب ڈین سوشل سائنسز ڈاکٹر عمر فاروق زین سے رابطہ کیا گیا تو ان کا موقف تھا کہ میں روٹین کی جاگنگ پر تھا کہ ڈاکٹر جاویداختر سلیانہ نے جان بوجھ کر گاڑی سے مجھے ٹکر ماری جس سے میں دور جا کر گرا تو جاوید اختر سلیانہ گاڑی چھوڑ کر سکیورٹی روم کی طرف بھاگ گئے۔






