یو ای ٹی لاہور؛تنخواہوں میں اضافہ بند،وزیر اعلیٰ کا نوٹس ،وی سی مشکل میں پھنس گئے

ملتان (سٹاف رپورٹر) یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے وائس چانسلر کی طرف سے حکومتی اعلان کے مطابق تنخواہوں میں اضافہ نہ کئے جانے کے باعث ملازمین کی طرف سے وزیر اعلیٰ پنجاب اور گورنر پنجاب کو لکھے گئے خطوط پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ یاد رہے کہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور جو کہ انجینئرنگ کا قدیم ترین ادارہ ہے، میں تین ماہ قبل پنجاب یونیورسٹی لاہور کے کیمیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ سے آنے والے وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد منیر، جو کہ اس سے قبل جھنگ یونیورسٹی میں خاصے متنازعہ اقدامات کرکے آئے ہیں، کے حوالے سے ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کی جانب سے ملازمین پر ظلم کی داستانوں کی بابت لکھا گیا لیٹر سامنے آ گیا تھا جس کی کاپیاں وزیر اعلیٰ پنجاب اور گورنر پنجاب کو بھی بھیج دی گئی تھیں جس کے مطابق ایڈمنسٹریٹو سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر محمد ضرغام نصرت اور جنرل سیکرٹری محمد شکیل ورک جبکہ ٹیکنیکل سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر شبیر حسین شاہ اور جنرل سیکرٹری عابد حسین، اسی طرح منسٹریل سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر سید عامر مشتاق اور جنرل سیکرٹری عظمت علی، سی کلاس ایسوسی ایشن کے صدر محبوب خان تنولی اور جنرل سیکرٹری عثمان شانی نے 18 دسمبر 2024 کو نئے تعینات ہونے والے وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد منیر کو بذریعہ خط اس جانب متوجہ کیا کہ پاکستان کی اس باوقار اور قدیم ترین انجینئرنگ یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت پنجاب نے اپنے خط نمبر FD.SR کے ذریعے V.4-1/2024 مورخہ 5 اگست 2024 (Anex-A)” جو ایڈہاک ریلیف الاؤنس-2024جولائی 2024 سے منظور کیا ہے اور صوبہ پنجاب کی دیگر تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیاں پہلے ہی اپنے ملازمین کو یہ الاؤنس دے رہی ہیں، لیکن یو ای ٹی کے ملازمین ابھی تک انتظار کر رہے ہیں،آرڈرجاری کیا جائے اور 6 ماہ کے اضافہ شدہ بقایاجات بھی دیئے جائیں کیونکہ مہنگائی نے تنخواہ دار ملازمین کی زندگی بھی بری طرح متاثر کر رکھی ہے۔ UET کی تاریخ میں پہلی بار 6 ماہ کا تنخواہوں کا اضافہ نہ ملنے پر سخت پریشان ہیں اور ملازمین قرضوں کے ذریعے ضروری روزی روٹی کا انتظام کرنے پر مجبور ہیں جبکہ اکثر اپنی روزمرہ کی خوراک عوامی خیراتی دسترخوان جیسے بحریہ دستر خوان وغیرہ سے حاصل کرتے ہیں جس سے نہ صرف ملازمین کی عزت نفس کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ پاکستان کی قدیم ترین انجینئرنگ یونیورسٹی کے امیج کو بھی عالمی سطح پر نقصان پہنچ رہا ہے۔ مہنگائی کے شدید اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے درخواست ہے کہ مذکورہ بالا ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2024 اس یونیورسٹی کے تمام یونیورسٹی ملازمین کو یکم جولائی سے دیا جائے۔ اس بابت وزیر اعلیٰ پنجاب نے رپورٹ بھی طلب کر لی ہے اور جب اس حوالے سے یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد منیر اور ان کے پی آر او ڈاکٹر مولوی تنویر قاسم سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی جواب دینے کے بجائے حسب تربیت دھمکیاں دیتے ہوئے نمبر بلاک کر دیا کہ آپ یونیورسٹی کے ملازمین کیلئے آواز اٹھانے والے کون ہوتے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں