ملتان (سٹاف رپورٹر) اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میںسخت ترین مالی بدحالی کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے نومبر کی تنخواہ آدھی پہلے ادا کی تھی اور باقی آدھی تنخواہ فرسٹ ویمن بینک سے 24 کروڑ لے کر ادا کی گئی تھی مگر دسمبر کی تنخواہیں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ایڈیشنل چارج خزانچی کی کوششوں سے تنخواہ آدھی کے بجائے صرف 25 فیصد 10 جنوری کو ادا کی جا رہی ہے اور باقی 75 فیصد کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ یاد رہے کہ 6 جنوری کو اے ایس اے ایگزیکٹو کا اجلاس ہوا جس میں یہ متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ آج 9 تاریخ بروز جمعرات تک ڈینز ڈائریکٹرز اور چیئر پرسنز کی محنت سے فیسوں کی مد میں جو بقایا جات کی وصولی ہوئی ہے اس سے تنخواہ کی مد میں تمام فیکلٹی اور ملازمین کو ادا کیا جائے سٹاف ممبر میں برابر تقسیم کیا جائے تاکہ وہ اپنے روزمرہ معاملات چلا سکیں اور اس مہینے ایچ ای سی کی گرانٹ اور نئے ایڈمیشنز کی مد میں بھی آمدن ہو گی اس سے بھی صرف تنخواہوں کی ادائیگی ہی کی جائے گی۔ یونیورسٹی کے اساتذہ کرام سے جب اس بارے میں رائے لی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ بھیک کی صورت میں تنخواہیں نہیں چا ہئیں۔ کچھ ٹیچرز نے امتحانات کے بائیکاٹ کی بھی دھمکی دی ہے۔ کچھ اساتذہ نے انتظامیہ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بہتر ہے کہ تنخواہیں روزانہ کی بنیادوں پر ہی طے کر دی جائیں ۔ ایک سینئر ایڈمنسٹریشن کے آفیسر کا کہنا تھا کہ یہ معاملات ہر سال دسمبر کی تنخواہوں میں آ جاتے ہیں۔ اس کے بعد جیسے ہی فروری کا مہینہ آتا ہے اور ایڈمیشن ہوتے ہیں تو مالی معاملات سیدھے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔






