ملتان (سٹاف رپورٹر) بہاولپور کی سب سے بڑی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے دو سال قبل برطرف ہونے والے وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کی کرپشن کے حوالے سے مزید انکشافات سامنے آ گئے ہیں جن کے مطابق انہوں نے اپنی وائس چانسلر شپ کے ختم ہونے سے آخری تقریبا ًچھ ماہ کے اندر اندر چار سلیکشن بورڈ کروا کر 200 سے زائد ملازمین کو بھرتی کر لیا جن میں ایڈمنسٹریشن کے لوئر سٹاف سے لے کر لیکچررز، اسسٹنٹ پروفیسرز، ایسوسی ایٹ پروفیسرز اور پروفیسرز کی تعیناتیاں شامل تھیں۔ یاد رہے کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور گزشتہ کافی سالوں سے مالی بدحالی کا شکار ہے اس کے باوجود اتنے بڑے پیمانے پر غیر قانونی بھرتیوں پر کسی بھی صاحب اختیار کا نوٹس نہ لینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ بہاولپور کے باخبر حلقے اسے سابق گورنر میاں بلیغ الرحمان کی مبینہ آشیرباد قرار دیتے ہیں جبکہ اس کے علاوہ ایک قیمتی گاڑی کے کسی حکومتی عہدیدار کو گفٹ کیا جانا بھی زبان زد عام ہے ۔یاد رہے کہ قوانین کے مطابق مدت ملازمت کا دورانیہ ختم ہونے کے آخری چھ ماہ کے اندر اندر وائس چانسلر سے تعیناتیوں کی تمام تر پاورز لے لی جاتی ہیں مگر وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب نے آشیرباد کے بل پر ان تمام قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے آخری چار سلیکشن بورڈز میں 200 کے قریب بھرتیاں کرکے یونیورسٹی کو ایک نہ ختم ہونے والے بہت بڑے مالی بوجھ سے دوچار کر دیا۔ اس حوالے سے موقف کے لیے یونیورسٹی کے اے ایس اے کے صدر ڈاکٹر ریاض احمد سندھڑ سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ سابق وائس چانسلر کے آخری چار سیلیکشن بورڈ میں جو تقرریاں کی گئی ہیں ان تقرریوں پر اس وقت کوئی اعتراض نہیں کیا گیا تھا ان کے مقررہ وقت کے پورا ہونے کے بعد بھی ان پہ کوئی اعتراض نہیں تھا آج اس وائس چانسلر کو گئے ہوئے تقریبا 20 ماہ ہو گئے ہیں ۔ اب ان تقرریوں پہ سوال اٹھانا غیر قانونی اور غیر اخلاقی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کے حوالے سے میں اپنا واضح مؤقف پہلے بھی دے چکا ہوں اب دوبارہ بھی دہرا دیتا ہوں کہ یونیورسٹی میں اساتذہ کی تقرریوں کے بارے گمراہ کن پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن اساتذہ کا ہر سطح پہ دفاع کرے گی۔ یونیورسٹی کے مالی معاملات اور انتظامی معاملات کے بارے میں اس وقت جتنی بھی باتیں ہو رہی ہیں ان کو حل کرنے کا ایک ہی طریقہ یہ ہے کہ گورنمنٹ آف پنجاب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں مستقل وائس چانسلر تعینات کرے جو اس کی لانگ ٹرم پلاننگ کرے اور یونیورسٹی کو اپنے پیروں پہ کھڑا کرے۔ یونیورسٹی میں بہت پوٹینشل موجود ہے یونیورسٹی کا ہیومین ریسورس اور فزیکل انفراسٹرکچر ایسا ہے کہ یہ باآسانی سنبھل سکتی ہے لیکن اس کو سنبھالنے کے لیے ضروری ہے کہ یہاں وائس چانسلر مستقل ہو اور ایڈہاک ازم کا خاتمہ ہو۔






