ڈاکٹر رمضان ایمرسن یونیورسٹی میں برادری ازم کو فروغ ،ادارہ کو گجر کھڈہ بنانے پر تل گئے

ایمرسن ؛غیر قانونی رجسٹرار ڈاکٹر فاروق بارے مزید انکشافات،اصل عمر چھپاکر تعینات

ملتان (سٹاف رپورٹر) جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے شہر ملتان کے سب سے قدیم اور معروف کالج گورنمنٹ کالج بوسن روڈجسے چند سال قبل ہی یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا ہے۔ ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے غیر قانونی رجسٹرار کے بارے میں مزید انکشافات سامنے آ گئے ہیں جس کے مطابق رجسٹرار کی تعیناتی کیلئے عمر 40 سے 50 سال کے درمیان ہونی چاہئے مگر موصوف ڈاکٹر محمد فاروق رجسٹرار ایمرسن یونیورسٹی ملتان کی عمر 53 سال سے زائد ہے مگر سینڈیکیٹ میں زائد العمر لکھا ہی نہیں گیا بلکہ چھپا لیا گیا اور سنڈیکیٹ سے حقائق کو چھپایا گیا۔ اس بدیانتی میں وی سی اور رجسٹرار دونوں شریک جرم ہیں۔رجسٹرار محمد فاروق اور کنٹرولر آفتاب خاکوانی دونوں کی عمریں بوقت سلیکشن 50 سال سے زائد تھیں۔ بھرتی کیلئے یونیورسٹی ایکٹ 2021 کے سیکشن 17 سب سیکشن 3 کے مطابق رجسٹرار کی پوزیشن کیلئے کم از کم تین افراد کا پینل بھیجا جانا چا ہئے۔ اس ایکٹ کے برعکس تین امیدواروں میں موصوف زا ئد العمر تھرڈ ڈویژن ایم اے ہونے کی وجہ سے نااہل تھا ۔دوسرے امیدوار ڈاکٹر محمد ندیم سعید ڈپٹی رجسٹرار فیصل آباد یونیورسٹی نے جانبدارانہ اور غیر شفافیت پر 10 جنوری 2024 کو اپنی امیدواریت سنڈیکیٹ اجلاس سے بہت پہلے واپس لے لی، یوں صرف ایک امیدوار رانا شبیر باقی رہ گیا جنہوں نے دوبارہ قانون کے مطابق سیٹ مشتہر ہونے کا مطالبہ کیا جو ہائی کورٹ کی ہدایت پر گورنر کے پاس زیر سماعت ہے اس طرح وی سی اور رجسٹرار نے ملی بھگت سے حقائق کو مخفی رکھا جو فراڈ اور جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ اس صورتحال پر علمی سماجی سنجیدہ حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعینات رجسٹرار کو فی الفور برطرف کیا جائے اس کے تمام فراڈ کرپشن اقربا پروری اور اختیارات سے متجاوز اقدامات کو غیر قانونی ڈکلیئر کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی انکوائری تشکیل دی جائے۔اس بارے میں جب موقف کیلئے ایمرسن یونیورسٹی کے پی آر او ڈاکٹر نعیم سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں تمام تعیناتیاں مکمل شفافیت، میرٹ اور قانونی تقاضوں کے عین مطابق کی گئی ہیں۔ ہم ان تمام بے بنیاد الزامات اور منفی پراپیگنڈے کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔الحمد للہ ایمرسن یونیورسٹی ملتان وائس چانسلر ڈاکٹر محمد رمضان کی سربراہی میں نہ صرف اس خطہ جنوبی پنجاب کی بلکہ پورے پاکستان میں سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کرنے والی یونیورسٹی بن چکی ہے ہمارا کام ہی ہماری پہچان ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں