ملتان(سٹاف رپورٹر)پنجاب اور سندھ کے سرحدی اضلا ع میں دنیا بھر کے معروف اور مہنگے برانڈ زکے سگریٹ بنانے اور پیکنگ کرنے کا کاروبار عروج پر پہنچ گیا ہے۔ پنجاب کے سرحدی علاقوں میں تمباکو کی کاشت کا رجحان بڑھ چکا ہے اور اپر سندھ میں چھوٹے پلانٹ لگا کر معروف برانڈز کے جعلی سگریٹ تیار کئے جا رہے ہیں جن کی ڈبیاں کراچی میں پرنٹ ہو رہی ہیں جبکہ اس کیلئے فلٹر امپورٹ کیا جا رہا ہے ۔پاکستان میں تمباکو نسبتا ًسستا ہونے کی وجہ سے کم لاگت میں اعلیٰ معیار کے غیر ملکی برانڈز کے سگریٹ تیار کر کے کراچی اور پنجاب میں خصوصی طور پر لاہور اور فیصل آباد ایئرپورٹ کے ذریعے سگریٹوں کے کارٹن باہر بھجوائے جا رہے ہیں اور واقفان حال کے مطابق کسٹم کا عملہ پھیرے بازوں اور فلائٹ کے عملے کے ذریعے یہ سگریٹ باہر بھجوا رہا ہے جہاںپانچ سے سات ہزار لاگت میں تیارہونے والے سگریٹ کے کریٹ 50 سے 55 ہزار میں فروخت ہو رہے ہیں کیونکہ ان ممالک میں سگریٹ پر بہت زیادہ ٹیکس عائد ہیں جو کہ پاکستان میں نہیں۔ پاکستان میں سرکاری سطح پر کوئی بھی ایسی لیبارٹری نہیں جو کہ تمباکو کے معیار کو چیک کر سکے ۔اس لئےسندھ میں کھلے عام معروف برانڈز کے سگریٹ تیار کر کے باہر بھجوائے جا رہے ہیں ۔جو سمگلر باہر سے موبائل، ہارٹ سٹنٹ اور دیگر موبائل اسیسریز کا سامان لے کر آتے ہیں وہ ادھر سے سگریٹ لے کر باہر جاتے ہیں۔ حیران کن طور پر جعلی سگریٹ کے معروف برانڈز تیار کرنے والوں پر کسی بھی قسم کا کوئی چیک نہیں ہے جس کی وجہ سے سمگلروں اور کسٹم کے ایئرپورٹ پر تعینات عملےکو بھاری رشوت روزانہ کی بنیاد پر جمع ہو رہی ہے۔






