ملتان (سٹاف رپورٹر) ملک بھر کی سرکاری یونیورسٹیوں میں تحقیقی مقالہ جات میں بددیانتی،مواد کی چوری اور تعلیمی سرقہ کے حوالے سے مزید انکشافات سامنے آگئے ہیں جس کے مطابق اکثر ریسرچ پیپر لکھنے والے حضرات اور اساتذہ کرام مناسب پیسے اور ذرائع نہ ہونے کے باعث کوئی نہ کوئی انویسٹر ڈھونڈنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جیسے ہی کوئی انویسٹر ملتا ہے اور وہ انٹرنیشنل جرنل میں ریسرچ پیپر کی فیس ادا کر سکتا ہو تو اس کا نام بھی ریسرچ پیپر کے مصنفین کی فہرست میں لکھ دیا جاتا ہے چنانچہ اسی وجہ سے کچھ ریسرچ پیپرز میں مصنفین کی تعداد آٹھ سے نو اور10 تک بھی پہنچ جاتی ہے چنانچہ ایسے حضرات جن کا ریسرچ پیپر سے دور دور تک کوئی تعلق واسطہ نہیں ہوتا ان کا نام بھی ریسرچ پیپر کے مصنفین کی لسٹ میں شامل ہوتا ہے ۔کچھ حقائق کے مطابق ایسوسی ایٹ پروفیسر حضرات سال ہا سال تک کوئی پیپر نہ لکھ پاتے ہیں مگر جیسے ہی ان کی یونیورسٹی میں پروفیسر کی اسامی کا اشتہار اتا ہے ان کے ریسرچ پیپر کی تعداد پوری ہو جاتی ہے جس کی بنیادی وجہ ایسوسی ایٹ پروفیسر حضرات کا اپنے جونیئر ٹیچرز کی منتیں اور انٹرنیشنل جرنلز میں پبلشنگ کے اخراجات اٹھا کر اپنا نام شائع کروانا ہے۔ تعلیم اور ریسرچ کے میدان میں یہ اخلاقی چوری جسے تعلیمی حلقے چوری ہی نہیں سمجھ پا رہے وہ کیسے اس ملک کا مستقبل بدل پائیں گے۔ حال ہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان سے برطرف ہونے والے ایک وائس چانسلر جو کہ بذات خود سول انجینئر تھے مگر ان کے ریسرچ پیپر کیمیکل اور الیکٹریکل انجینئرنگ کی فیلڈ میں بھی موجود تھے جو کہ ایک بہت ہی بڑا سوالیہ نشان ہے اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی مناسب پالیسی نہ ہونے کے باعث ریسرچ پیپرز کے میدان میں یہ غیر اخلاقی چوری عرصہ دراز سے جاری و ساری ہے۔اور اس طریقہ کار سے پروفیسر بننے والے متعدد حضرات وائس چانسلر بن کر ریٹائر بھی ہو چکے ہیں اور حال میں بھی بہت سی یونیورسٹیز میں ایسے حضرات وائس چانسلر کی کرسی انجوائے کر رہے ہیں۔ سونے پر سہاگہ کہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور وفاقی وزارتوں کے پاس وائس چانسلر حضرات کی تعیناتی کے وقت ریسرچ پیپرز کو چیک کرنے کا کوئی مناسب طریقہ کار موجود نہیں ہے چنانچہ جو بھی وائس چانسلر کے امیدوار جس بھی طرح کے ریسرچ پیپر اپنی درخواست کے ساتھ جمع کرواتا ہے ہائر ایجوکیشن کمیشن اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب ان کی گنتی کر کے ان کو اوکے کر دیتے ہیں۔






