ملتان(سٹاف رپورٹر) سابق سب رجسٹرار سٹی ملتان کی طرف سے حکومت پنجاب کو نصرت روڈ ملتان پر واقع کمرشل پلازہ کی رجسٹری میں لاکھوں روپے سے زائد نقصان پہنچانے کے حوالے سے روزنامہ قوم میں گزشتہ روز شائع شدہ خبر پر ڈپٹی کمشنر نے ایک ہفتے میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ رجسٹری محرر کے خلاف میجر پلنٹی کی سفارش کی جا رہی ہے جو ملازمت سے برخاستگی بھی ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ نصرت روڈ پر واقع اس پلازے کے معاملات سالہا سال سے بگڑے ہوئے ہیں اور یہاں 6 منزلہ سٹی سنٹر کے نام پر پلازہ، کمرشل سنٹر اور جدید سہولتوں سے آراستہ فلیٹ بنائے جانے تھے جس کی تشہیری مہم کے بعد درجنوں افراد نے دکانیں، فلیٹ اور فلور بک کروا کر کروڑوں روپے کی مرحلہ وار ادائیگیاں بھی کر دی تھیں مگر تین منزلہ پلازہ بنا کر کام روک دیا گیا پھر تھوڑی دیر بعد کام شروع ہوا تو تیسری مرتبہ بھی روک دیا گیا جس پر متاثرین نیب میں چلے گئے اور کئی ماہ تک معاملہ نیب میں زیر سماعت رہا اور مایوس درخواست گزاروں کو کئی سال بعد ان کی اصل رقم بھی اقساط میں بمشکل مل سکی۔ اس دوران سٹی سنٹر مالکان نے اس پلازے کا ایک حصہ معروف ڈیپارٹمنٹل سٹورز چین’’ امتیاز‘‘ کو 75 کروڑ میں فروخت کر دیا مگر شرائط پوری نہ ہونے کی وجہ سے یہ معاہدہ بھی التوا میں چلا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ اس وقت اس پلازے کی قیمت 10 ارب سے بھی زائد ہو چکی ہے مگر سابق سب رجسٹرار نے اس رجسٹری میں کئی سال پرانی والی صرف 20 کروڑ قیمت ظاہر کی جو کہ اصل قیمت کے مقابلے میں 50 گنا کم ہے اور اس میں بھی سابق سب رجسٹرار سٹی نے کروڑوں کی دیہاڑی الگ سے لگائی۔ سٹی سنٹر

ملتان؛رجسٹری فراڈ ،10 ارب مالیتی سٹی سنٹر 20 کروڑ کا ظاہر ’’قوم‘‘ کی خبر پر تحقیقات شروع

ملتان(سٹاف رپورٹر) سابق سب رجسٹرار سٹی ملتان کی طرف سے حکومت پنجاب کو نصرت روڈ ملتان پر واقع کمرشل پلازہ کی رجسٹری میں لاکھوں روپے سے زائد نقصان پہنچانے کے حوالے
سے روزنامہ قوم میں گزشتہ روز شائع شدہ خبر پر ڈپٹی کمشنر نے ایک ہفتے میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ رجسٹری محرر کے خلاف میجر پلنٹی کی سفارش کی جا رہی ہے جو ملازمت سے برخاستگی بھی ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ نصرت روڈ پر واقع اس پلازے کے معاملات سالہا سال سے بگڑے ہوئے ہیں اور یہاں 6 منزلہ سٹی سنٹر کے نام پر پلازہ، کمرشل سنٹر اور جدید سہولتوں سے آراستہ فلیٹ بنائے جانے تھے جس کی تشہیری مہم کے بعد درجنوں افراد نے دکانیں، فلیٹ اور فلور بک کروا کر کروڑوں روپے کی مرحلہ وار ادائیگیاں بھی کر دی تھیں مگر تین منزلہ پلازہ بنا کر کام روک دیا گیا پھر تھوڑی دیر بعد کام شروع ہوا تو تیسری مرتبہ بھی روک دیا گیا جس پر متاثرین نیب میں چلے گئے اور کئی ماہ تک معاملہ نیب میں زیر سماعت رہا اور مایوس درخواست گزاروں کو کئی سال بعد ان کی اصل رقم بھی اقساط میں بمشکل مل سکی۔ اس دوران سٹی سنٹر مالکان نے اس پلازے کا ایک حصہ معروف ڈیپارٹمنٹل سٹورز چین’’ امتیاز‘‘ کو 75 کروڑ میں فروخت کر دیا مگر شرائط پوری نہ ہونے کی وجہ سے یہ معاہدہ بھی التوا میں چلا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ اس وقت اس پلازے کی قیمت 10 ارب سے بھی زائد ہو چکی ہے مگر سابق سب رجسٹرار نے اس رجسٹری میں کئی سال پرانی والی صرف 20 کروڑ قیمت ظاہر کی جو کہ اصل قیمت کے مقابلے میں 50 گنا کم ہے اور اس میں بھی سابق سب رجسٹرار سٹی نے کروڑوں کی دیہاڑی الگ سے لگائی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں