محکمہ صحت ملتان ؛ایک ارب 27 کروڑ کے فنڈ میں92 کروڑ کرپشن ،ریکارڈ ٹوٹ گئے

ملتان (عامر حسینی) محکمہ صحت ملتان میں مالی بدعنوانی کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ موجودہ چیف ایگزیکٹو ہیلتھ اتھارٹی ملتان ڈاکٹر ریاض مستوئی کی جانب سے پنجاب حکومت کو بھیجی گئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سابق سی ای او ڈاکٹر فیصل قیصرانی کے دور میں ایک ارب 27 کروڑ روپے کے فنڈز میں سے 92 کروڑ روپے کرپشن، ناجائز ادائیگیوں اور غیر قانونی اخراجات کی نذر ہوگئے۔رپورٹ کے مطابق حکومت پنجاب نے سی ای او ہیلتھ اتھارٹی ملتان کو ایک ارب 27 کروڑ روپے کے فنڈز فراہم کئےجن میں سے صرف 32 کروڑ روپے قواعد و ضوابط کے مطابق خرچ کیے گئے۔ باقی 92 کروڑ روپے مختلف مدوں میں کرپشن اور بے ضابطگیوں کا شکار ہوئے۔ای پی آئی سٹور سے 29ہزارانسولین انجکشن کی چوری کی گئی جس سے خزانے کو 3 کروڑ 18 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ ادویات کی خریداری میں بھی ایک کروڑ 88 لاکھ روپے کی خوردبرد کی گئی۔ غیر قانونی بھرتیوں کے ذریعے ڈرائیور اور اٹینڈنٹ کی تعیناتی سے 8 لاکھ 85 ہزار روپے کا نقصان ہوا۔ایس ایس بی فنڈز سے غیر مستقل ملازمین کو 3 کروڑ 38 لاکھ روپے کی غیر قانونی ادائیگیاں کی گئیں جبکہ 19 لاکھ روپے ایسے ملازمین کو دیئے گئے جنہوں نے نان پریکٹس کے حلف نامے جمع نہیں کرائے تھے۔مالی سال 2023-24 میں دو کروڑ 75 لاکھ روپے کی ادویات فراہم نہ ہونے کے باوجود ٹھیکیدار فرم کو مکمل ادائیگی کی گئی اور 13 لاکھ 78 ہزار روپے کی پرفارمنس گارنٹی بھی ضبط نہیں کی گئی۔ سفری الاؤنس بھی قواعد کے خلاف جاری کیا گیا، جس سے سرکاری خزانے کو 11 لاکھ 74 ہزار روپے کا نقصان پہنچا۔دفتر کے اخراجات کے تحت 58 کروڑ روپے کی غیر قانونی ادائیگیاں ظاہر کی گئیں، جبکہ کمپیوٹر اور آئی ٹی آلات کی خریداری میں 51 لاکھ روپے کی خردبرد ہوئی۔ اسٹیشنری، فرنیچر اور دیگر مدات میں 14 کروڑ روپے کا نقصان ہوا، اور ترقیاتی منصوبوں میں 25 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔رپورٹ کے مطابق، یہ کرپشن محکمہ صحت ملتان کی تاریخ کی سب سے بڑی مالی بے ضابطگی قرار دی گئی ہے۔ حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ ذمہ دار افراد کے خلاف فوری کارروائی کرے اور سرکاری خزانے کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات اٹھائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں