ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان کی ماضی کی گجر کھڈا کے نام کی ایک کچرا کنڈی تو ختم ہو گئی مگر جنوبی پنجاب کے سب سے معروف اور معتبر تعلیمی ادارے گورنمنٹ کالج بوسن روڈ کو اس کے انگریز دور کے نام ایمرسن کالج کو یونیورسٹی میں تبدیل کئےجانے کے بعد تدریسی عمل سے ناآشنا انتظامیہ نے اس تعلیمی ادارے کو ایک نئے گجر کھڈے کی طرز پر چلانے کی ذمہ داریاں سنبھالی ہوئی ہیں۔ ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر ڈاکٹر رمضان گجر نے این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے کالرو کلچر کی طرز پر گجر کلچر کو میرٹ کی پہلی اور مبینہ رشوت کو دوسری پالیسی کےطور پر متعارف کرا دیا ہے۔ ایمرسن یونیورسٹی میں تعیناتیوں میں میرٹ کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے رشوت یا پھر گجر میرٹ قرار پا چکا ہے اور یونیورسٹی کے پیسے کا بے دریغ ضیاع معمول بن گیا ہے۔ تفصیل کے مطابق گریڈ 17 اور اس سے اوپر کی تعیناتیوں کیلئے جو 3 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی اس میں صوابی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ناصر جمال خٹک جو کہ ایماندار اور اچھی شہرت کے حامل ہیں، انٹرویوز کے دوران ذاتی مصروفیات کے باعث نہ آ سکے۔ دوسری ممبر میڈم قمر آ گئیں جبکہ تیسرے ممبر زاہد حسین آف اڑوڑا یونیورسٹی بھی نہ آ سکے۔ 3 میں سے 2 ممبران کے نہ آنے پر سلیکشن کمیٹی کو اصولی طور پر کینسل کرنے کےبجائے خود ہی سلیکشن کی تمام کارروائیاں جو کہ پہلے ہی طے کی جا چکی تھیں کو موقع پر ہی میڈم قمر سے دستخط کروا کر وائس چانسلر ڈاکٹر رمضان سیدھا ڈاکٹر ناصر جمال خٹک کے پاس صوابی روانہ ہو گئے اور اس کے بعد زاہد حسین کے پاس اڑوڑا یونیورسٹی پہنچ کر دونوں سے دستخط کروا لئے اور ملتان میں ایک اہم اور پرانے ادارے گورنمنٹ کالج بوسن روڈ جسے کچھ سال پہلے ہی یونیورسٹی کا درجہ ملا تھا، کو ایک تعلیمی ادارے کی طرح چلانےکے بجائے ملتان کا دوسرا گجر کھڈا بنا دیا۔ یونیورسٹی کے غیر قانونی رجسٹرار جن کا اپنا بھائی بھی امیدوار تھا ان کے انٹرویو کے دوران رجسٹرار کو اخلاقاً انٹرویو کمیٹی سے چلا جانا چاہئے تھا مگر چونکہ یہ تمام لسٹیں پہلے سے تیار شدہ تھیں، اسلئے بات ایک ہی رہی۔ اسی طرح گریڈ ایک سے 16 تک کی تعیناتیوں میں بھی ہیرا پھیری کی گئی۔ ان تمام 16 گریڈ میں بیشتر افراد لکھنا تک نہیں جانتے۔ ڈاکٹر اختر کالرو سے دو ہاتھ آگے وائس چانسلر ڈاکٹر رمضان گجر اور 55 سالہ غیر قانونی رجسٹرار محمد فاروق، کنٹرولر آفتاب احمد خاکوانی اس تمام غیر قانونی تعیناتیوں میں ملوث ہیں۔ اسی طرح کمپیوٹرز کی خریداریوں اور اس تمام خریداری میں کرپشن کی آوازیں بھی ایمرسن یونیورسٹی میں زبان زد عام ہیں۔ تعیناتیوں میں ردوبدل کی ایک مثال اقبال علی نامی شخص کے حوالے سے سامنے آئی ہے جس کا میرٹ لسٹ میں آخری نمبر تھا مگر وائس چانسلر ڈاکٹر رمضان گجر نے اس کو ہیرا پھیری کرتے ہوئے تعینات کر لیا۔ ڈاکٹر رمضان گجر کی پھرتیاں کہ انہوں نے کمپیوٹر کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ کو سمجھتے ہوئے ہیرا پھیری کی خاطر کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ کے ماتحت ڈیٹا سائنسز اور سائبر سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ شروع تو کر دیئے مگر ایک بھی پروفیشنل ڈیٹا سائنسز یا سائبر سکیورٹی کا پروفیسر تعینات نہیں کیا اور جتنے بھی افراد کو بھرتی کیا گیا وہ صرف اور صرف یو ٹیوب سے لیکچر ڈاؤن لوڈ کرکے پڑھانے میں مصروف ہیں۔ ان 2 نئے شروع ہونے والے ڈیپارٹمنٹس میں کمپیوٹر ادھار لے کر سیاسی لوگوں کو بلا کر فوٹو سیشن کروا کر واپس کر دیے گئے۔ ملتان ہی سے تعلق رکھنے والی ایک سینئر قانون دان نے اس یونیورسٹی میں بعض قابل اعتراض سرگرمیوں بارے بھی روزنامہ قوم کو آگاہ کرتے ہوئے جلد ثبوت فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ رات کے وقت خواتین سٹاف کا بلایا جانا بہت سے شکوک و شبہات پیدا کر رہا ہے۔ اس سے پہلے کہ کوئی بہاولپور کی اسلامیہ یونیورسٹی جیسا معاملہ سامنے آئے متعلقہ اداروں کو اس پر نگاہ رکھنی ہو گی۔






