نومئی 2023 کے ہنگاموں میں مبینہ ملوث ہونے کے الزام میں 25 شہریوں کو فوجی عدالتوں سے سزا سنایا جانا پاکستان میں انصاف کے نظام کے لیے ایک پریشان کن اور خطرناک مثال قائم کرتا ہے۔ اگرچہ آئی ایس پی آر نے ان فیصلوں کو “انصاف کی فراہمی میں ایک اہم سنگ میل” قرار دیا ہے، لیکن اس پورے عمل نے دائرہ اختیار، قانونی تقاضوں، اور جمہوری اصولوں کے زوال کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔
انسانی حقوق کے اصول اور عالمی معیارات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ کسی بھی ملزم کو ایک آزاد، شفاف، اور غیر جانبدار عدالتی نظام میں مقدمے کا حق حاصل ہو۔ تاہم، فوجی عدالتوں کے ذریعے دی جانے والی سزاؤں نے اس بنیادی حق کو نظر انداز کیا ہے۔ ان عدالتوں میں شفافیت کا فقدان، فیصلوں کے بارے میں تفصیلات کی عدم موجودگی، اور آزادانہ نگرانی کے فقدان نے اس عمل کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
آفیشل سیکریٹس ایکٹ (OSA) کے تحت شہریوں کے خلاف مقدمے چلانا، ایک ایسے قانون کا غلط استعمال ہے جو عام طور پر ریاستی رازوں کی خلاف ورزی جیسے معاملات کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ جناح ہاؤس پر حملہ یا دیگر فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچانے جیسے افعال کو انسداد دہشت گردی ایکٹ یا پاکستان پینل کوڈ کے تحت نمٹانا چاہیے تھا۔ ایسے حالات میں فوجی عدالتوں کا استعمال، جب کہ انسداد دہشت گردی کی عدالتیں ان جیسے سینکڑوں معاملات نمٹا رہی ہیں، انصاف کے عمل کو شفاف اور معقول ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملزمان کو تمام قانونی حقوق دیے گئے، لیکن یہ یقین دہانی حقیقی عدالتی معیارات پر پورا نہیں اترتی۔ فوجی عدالتوں کا بنیادی ڈھانچہ ایک درجہ بندی پر مبنی ہوتا ہے، جو آزادانہ عدالتی عمل کے لیے ضروری غیر جانبداری سے محروم ہے۔ ان عدالتوں کے فیصلوں کی مبہم وضاحتیں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے میں ناکام رہتی ہیں، اور ان سے مزید شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔
ان فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق بھی ایک ایسی حقیقت ہے جو منصفانہ نظام انصاف کے اصولوں سے ہم آہنگ نہیں۔ اپیل کے عمل کو فوجی عدالتوں اور آرمی چیف تک محدود رکھنا، شہری عدالتی نگرانی کو صرف تکنیکی امور تک محدود کر دینا، انصاف کے مکمل حصول کے لیے ناکافی ہے۔
یہ مسئلہ صرف قانونی یا عدالتی حدود تک محدود نہیں بلکہ اس کا اثر پاکستان کی جمہوری بنیادوں پر بھی پڑتا ہے۔ فوجی عدالتوں کے ذریعے شہریوں کو سزا دینا جمہوریت کی بنیادوں کو کمزور کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے حالیہ فیصلے میں ان مقدمات کو غیر آئینی قرار دیا تھا، لیکن اس کے باوجود ایسے مقدمات کا جاری رہنا قانون کی حکمرانی کے بارے میں تشویش کو بڑھا دیتا ہے۔
یہ بھی غور طلب ہے کہ موجودہ سیاسی قیادت کے تحت یہ عمل جاری ہے، جو کہ ایک المیہ ہے کیونکہ جمہوری اقدار کی حفاظت کی ذمہ داری سب سے پہلے انہی پر عائد ہوتی ہے۔ اگر موجودہ حکومت اور عدلیہ اس معاملے کو فوری طور پر نہیں سنبھالتیں، تو یہ خطرہ موجود ہے کہ انصاف اور جمہوریت دونوں ہی مزید نقصان کا شکار ہو جائیں گے۔
پاکستان کے لیے اس وقت سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ وہ انصاف کے عمل کو شفاف، غیر جانبدار، اور منصفانہ بنائے۔ صرف یہی طریقہ ہے جس سے عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے اور ملک کو جمہوری بنیادوں پر مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ 9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں ضرور لایا جائے، لیکن ایسا عمل کے ساتھ ہونا چاہیے جو جمہوری اصولوں اور انسانی حقوق کی پاسداری پر مبنی ہو۔
یہ صورتحال صرف ایک عدالتی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے جمہوری مستقبل کی آزمائش ہے۔ اگر اس وقت انصاف کے اصولوں پر سمجھوتہ کیا گیا، تو یہ نہ صرف موجودہ نظام بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک مایوس کن ورثہ چھوڑ جائے گا۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ قانون کی حکمرانی کے اصولوں کو مقدم رکھا جائے، اور اس عمل میں کسی بھی قسم کے انتقامی اقدامات کو ختم کیا جائے تاکہ پاکستان کی جمہوریت اور عدالتی نظام کے وقار کو محفوظ رکھا جا سکے۔
پاکستان کی موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا چیلنج قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا اور جمہوری اقدار کی بحالی ہے۔ 9 مئی کے واقعات نے نہ صرف ملک کی داخلی سیاست بلکہ عوام کے اداروں پر اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ایسے میں حکومت، عدلیہ، اور دیگر متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ انصاف کے عمل کو شفاف اور غیر جانبدار رکھیں تاکہ عوام میں یہ تاثر نہ ابھرے کہ یہ اقدامات کسی خاص طبقے یا سیاسی گروہ کے خلاف انتقامی کارروائی ہیں۔
انصاف کے اصولوں کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ فوجی عدالتوں کی حدود کا واضح تعین کیا جائے۔ آئین میں فوجی عدالتوں کو مخصوص حالات میں استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے، لیکن ان کا استعمال عمومی عدالتی نظام کی جگہ لینا جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے قوانین جو شہریوں کے خلاف سختی سے نافذ کیے جا رہے ہیں، ان کے اطلاق میں شفافیت اور قانونی جواز کو یقینی بنایا جائے۔
عدلیہ پر ایک بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس وقت فیصلے کریں جو نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی بنیادوں پر بھی مضبوط ہوں۔ سپریم کورٹ کو اس موقع پر ایک فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہوئے فوجی عدالتوں کے دائرہ اختیار اور ان کے فیصلوں کی قانونی حیثیت پر ایک واضح حکم دینا ہوگا۔ یہ فیصلہ صرف موجودہ حالات کے لیے نہیں بلکہ مستقبل میں ایسے تنازعات سے بچنے کے لیے ایک نظیر قائم کرے گا۔
حکومت کو بھی اپنے کردار پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ جمہوریت صرف انتخابات کے انعقاد تک محدود نہیں ہوتی بلکہ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ شہریوں کو بنیادی حقوق اور انصاف تک مکمل رسائی حاصل ہو۔ ایک ایسی حکومت جو انصاف کے عمل میں مداخلت کرتی ہو یا جمہوری اقدار کو نظر انداز کرتی ہو، وہ نہ صرف اپنے عوام کا اعتماد کھو دیتی ہے بلکہ ملک کی بین الاقوامی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔
پاکستان کو اس وقت داخلی اتحاد اور مضبوط قومی بیانیے کی ضرورت ہے۔ 9 مئی کے واقعات نے یہ ظاہر کیا کہ تقسیم اور انتقامی سیاست کس طرح قومی مفادات کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ سیاسی قیادت کو اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر ملکی مفادات کے لیے کام کرنا ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر آج انصاف کے اصولوں پر سمجھوتہ کیا گیا، تو کل وہ خود اس کے نقصان دہ اثرات کا شکار ہو سکتی ہیں۔
آخر میں، یہ عوام پر بھی منحصر ہے کہ وہ انصاف اور جمہوریت کی حمایت کریں۔ شہریوں کو اپنی آواز بلند کرنی چاہیے اور ایسے اقدامات کی حمایت کرنی چاہیے جو ملک کو ایک مضبوط، جمہوری اور منصفانہ ریاست بنائیں۔ ایک منصفانہ اور شفاف عدالتی نظام کے بغیر نہ تو عوام کو سکون ملے گا اور نہ ہی ملک ترقی کر سکے گا۔
یہ وقت ہے کہ پاکستان اپنے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھے اور ایک ایسا راستہ اپنائے جو انصاف، مساوات، اور جمہوری اصولوں پر مبنی ہو۔ یہ راستہ آسان نہیں ہوگا، لیکن اگر آج صحیح فیصلے کیے گئے، تو یہ ملک کے لیے ایک روشن اور مستحکم مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔ انصاف، جمہوریت، اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ہمیں اجتماعی طور پر ایک مضبوط اور متحد موقف اپنانا ہوگا۔
مایوسی کی سیاست
پاکستان کے حکمران سیاستدانوں کی جانب سے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کی عدم دلچسپی نہایت مایوس کن اور ان کے رویے کی عکاس ہے۔ مقامی حکومتوں کے انتخابات، جو جمہوری طرز حکمرانی کا ایک اہم جزو ہیں، ملک بھر میں تعطل کا شکار ہیں، اور اسلام آباد اس غفلت کی واضح مثال ہے۔ آئین کے تحت مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کی ضرورت کے باوجود، سیاسی طبقہ اس حکمرانی کے تیسرے درجے کو ایک رکاوٹ سمجھتے ہوئے نظر انداز کرتا ہے، جس سے جمہوری اصول اور عوام کے مؤثر سہولیات کے حق کو نقصان پہنچتا ہے۔
پنجاب میں، آخری مقامی حکومتوں کے انتخابات 2017 میں عدلیہ کے دباؤ کے تحت کرائے گئے تھے، لیکن ان کی مدت 2022 میں ختم ہوگئی اور ان کی تجدید کا کوئی واضح راستہ متعین نہیں کیا گیا۔ دیگر صوبوں نے کسی حد تک انتخابات تو کرائے ہیں لیکن ان مقامی اداروں کو مالی اور انتظامی خودمختاری دینے میں ناکام رہے ہیں، جو ان کے مؤثر کام کے لیے ضروری ہے۔ اسلام آباد کی حالت مزید بدتر ہے۔ فروری 2021 میں مقامی حکومتوں کی مدت ختم ہونے کے بعد سے دارالحکومت بغیر منتخب مقامی حکومت کے ہے، جس کی وجہ سے اہم مسائل حل طلب ہیں۔
اس جمود کے پیچھے سیاسی محرکات واضح ہیں۔ حکمران اتحاد اپنے مخالف سیاسی حریف سے شکست کے خوف میں مبتلا ہے، جس کی مقبولیت میں اضافے کا تاثر دیا جا رہا ہے۔ اس ہچکچاہٹ کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے کردار نے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جو اپنی ذمہ داریوں کے برعکس انتخابات میں تاخیر کا موجب بن رہا ہے۔ گزشتہ چار سالوں میں، الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں مقامی حکومتوں کے انتخابات بار بار مشکوک وجوہات کی بنا پر مؤخر کیے ہیں۔
ابتداء میں، الیکشن کمیشن نے 50 یونین کونسلز کے انتخابات کا اعلان کیا، لیکن جلد ہی اس تعداد کو 101 کر کے انتخابات ملتوی کر دیے۔ جیسے ہی 20 اگست کے لیے نیا شیڈول جاری ہوا، حکمران اتحاد نے یونین کونسلز کی تعداد بڑھا کر 125 کر دی اور مقامی حکومتوں کے قانون میں ترامیم کیں تاکہ یونین کونسل میں نشستوں کی تعداد تبدیل کی جا سکے۔ 20 اگست کو، الیکشن کمیشن نے 29 ستمبر سے 9 اکتوبر تک پولنگ کی تاریخ کو ملتوی کر دیا، جس کی وجہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی حمایت سے منسلک سیاستدانوں کی درخواستیں تھیں۔ اکتوبر میں، کمیشن نے انتخابات کو غیر معینہ مدت کے لیے مؤخر کر دیا اور حال ہی میں حلقہ بندیوں کے عمل کا اعلان کیا، لیکن انتخابات کے لیے کوئی واضح ٹائم لائن فراہم نہیں کی۔
یہ تاخیر اور عملی رکاوٹیں انتخابات سے مکمل گریز کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتی ہیں۔ حکمران اتحاد کی ہچکچاہٹ اور الیکشن کمیشن کی معاونت شہریوں کو ان کے آئینی حق نمائندگی سے محروم کر رہی ہے۔ مزید برآں، یہ عوامی سہولیات کی فراہمی میں ناکامی کو دوام دیتی ہے، کیونکہ غیر منتخب منتظمین اسلام آباد کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
مقامی حکومتیں شہریوں کے فوری مسائل، جیسے بنیادی ڈھانچے، صفائی ستھرائی، اور عوامی سہولیات، کے حل کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ان کی عدم موجودگی عوامی مایوسی اور سیاسی نظام سے بددلی کو بڑھا رہی ہے۔ مقامی حکومتوں کے انتخابات کو جان بوجھ کر نظرانداز کرنا اختیارات کو مرکزی سطح پر رکھنے کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جہاں حکمران طبقہ عوامی ضروریات پر اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دیتا ہے۔
اسلام آباد میں مقامی اداروں کے انتخابات کا بروقت اور قابل اعتماد انعقاد نہ ہونا جمہوری عمل کو کمزور کرتا ہے اور ووٹرز کو مزید مایوس کرتا ہے۔ حکمران اتحاد اور الیکشن کمیشن کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات میں تاخیر عوام کے اعتماد کو مجروح کرتی ہے اور حکومت اور عوام کے درمیان خلیج کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ شہریوں کو اپنی روزمرہ زندگیوں پر اثر انداز ہونے والے فیصلوں میں نمائندگی، جواب دہی، اور آواز کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
یہ وقت ہے کہ سپریم کورٹ، سول سوسائٹی، اور میڈیا حکومت اور الیکشن کمیشن سے جواب طلب کریں۔ مقامی حکمرانی کوئی مراعات نہیں بلکہ ایک بنیادی حق ہے۔ مقامی حکومتوں کے انتخابات میں مسلسل تاخیر نہ صرف طرز حکمرانی کی ناکامی ہے بلکہ خود جمہوریت کے ساتھ ایک سنگین دھوکہ بھی ہے۔
یہ صورتحال پاکستان کے جمہوری عمل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، کیونکہ مقامی حکومتیں نہ صرف عوام کے مسائل کے حل کے لیے ایک موثر ذریعہ ہیں بلکہ یہ جمہوریت کی جڑیں مضبوط کرنے کا اہم ذریعہ بھی ہیں۔ مقامی سطح پر عوامی نمائندوں کی عدم موجودگی نے نہ صرف بنیادی سہولیات کی فراہمی کو متاثر کیا ہے بلکہ عوام کے حکومت پر اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔
یہ حقیقت کہ حکمران طبقہ مقامی حکومتوں کو فعال بنانے میں ناکام رہا ہے، یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ اقتدار کو نچلی سطح تک منتقل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ اس طرز عمل کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ عوام کے مسائل کے حل کے لیے وہ طریقہ کار جو مقامی حکومتوں کے ذریعے ممکن تھا، اب ایک پیچیدہ اور غیر مؤثر نظام کا شکار ہو گیا ہے۔ یہ عمل ایک جمہوری معاشرے میں ناقابل قبول ہے جہاں عوام کے مسائل کے حل کے لیے ایک شفاف، فعال، اور جواب دہ نظام ہونا چاہیے۔
پاکستان میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کی تاخیر اور ان کے اختیارات کی کمی محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ یہ عوامی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ سیاسی طبقہ اپنی سیاسی بقا کو عوامی فلاح پر ترجیح دیتا ہے، جو ایک جمہوری معاشرے کے اصولوں کے بالکل منافی ہے۔ عوامی نمائندوں کے بغیر مقامی سطح پر مسائل کو حل کرنا ناممکن ہو چکا ہے، اور یہ عوام کو حکومت سے مزید دور کر رہا ہے۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام، سول سوسائٹی، اور میڈیا مشترکہ طور پر مقامی حکومتوں کی بحالی کے لیے آواز بلند کریں۔ عدالت عظمیٰ کو بھی ایک فیصلہ کن کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ مقامی حکومتوں کے انتخابات کو آئینی دائرہ کار میں یقینی بنایا جا سکے اور عوام کو ان کے حقوق دلائے جا سکیں۔
مزید برآں، مقامی حکومتوں کو صرف انتخابات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں مکمل مالی، انتظامی، اور قانونی خودمختاری دی جائے تاکہ وہ اپنے فرائض بخوبی سرانجام دے سکیں۔ مقامی سطح پر موثر حکمرانی نہ صرف عوام کے فوری مسائل حل کرے گی بلکہ ملک کے سیاسی نظام میں استحکام بھی لائے گی۔
اگر یہ صورتحال یونہی جاری رہی تو پاکستان کو ایک ایسی ریاست بننے کا خطرہ لاحق ہو گا جہاں جمہوریت محض نام کی رہ جائے گی۔ عوام کے بنیادی مسائل اور ان کے حقوق کو مسلسل نظر انداز کرنا نہ صرف جمہوری اقدار کو نقصان پہنچائے گا بلکہ حکومت کے لیے عوامی اعتماد کی بحالی بھی مشکل ہو جائے گی۔
یہ وقت ہے کہ سیاسی قیادت اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے۔ مقامی حکومتوں کے انتخابات کی بحالی صرف ایک آئینی ضرورت نہیں بلکہ یہ عوام کے اعتماد کو بحال کرنے اور جمہوریت کو مضبوط کرنے کا ایک بنیادی ذریعہ ہے۔ ان انتخابات کو مزید تاخیر کا شکار کرنے کا مطلب صرف عوام کی مایوسی میں اضافہ کرنا ہے، جو کسی بھی ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔






