ملتان(سٹاف رپورٹر)وفاقی اور صوبائی سطح پر میڈیا مینجمنٹ فارمولا اب پنجاب بھر کے اضلاع اور ڈویژنوں تک بھی ٹرکل ڈاؤن ایفیکٹ کے فارمولا کے تحت پہنچ گیا اور اس کا سب سے زیادہ فائدہ پولیس کا ہو رہا ہے جسکے صوبہ بھر کے ضلعی پولیس سربراہان نے ایسی میڈیا مینجمنٹ کی ہے کہ اب بے انتہا بڑھتے ہوئے کرائم اور آسمانوں کو چھوتی ہوئی بدامنی میں بھینٹ، الیکٹرانک حتیٰ کہ سوشل میڈیا بھی مکمل خاموش یا پھرہتھ ہولا رکھاہوا ہے۔ پولیس اور میڈیا کی ایسی دوستی پہلے کبھی نہ تھی اور دونوں طرف سے کچھ لو اور کچھ دو کی ون ون پوزیشن چل رہی ہے۔ جنوبی پنجاب کے ہیڈ کوارٹر ملتان میں بھی اس فارمولے کو دو ماہ قبل لاگو کر دیا گیا ہے۔غیر اعلانیہ پالیسی یہ طے ہوئی ہے کہ تمام کرائم رپورٹرز اپنا نمائندہ مقرر کریں گےجو ان کی طرف سے معاملات طے کریں گے۔ملتان شہر کی حد تک یہ تین نکات پر مشتمل فارمولا طے ہوا ہے جس کے مطابق میڈیا سے متعلقہ ایسوسی ایشن کی مرضی سے تین ایس ایچ اوز تعینات ہوں گے اور ہر مرتبہ بڑے پیمانے پر جب بھی ایس ایچ او حضرات کی اکھاڑ پچھاڑ ہوگی تو تین ایس ایچ او حضرات کے نام میڈیا کی طرف سے آئیں گے جبکہ میڈیا کی سفارش پر درج مقدمات کی تعداد بھی طے کر لی گئی ہے جو ماہانہ بنیاد پر ہوگی اور جتنے مقدمات جن جن دفعات کے تحت رپورٹرز کی تنظیم کی طرف سے بھجوائے جائیں گے وہ من و عن عمل درآمد اور اندراج کے مرحلے سے گزریں گے۔تیسری شرط یہ ہے کہ رپورٹرز کی تنظیم جس بھی مقدمے کی ریکوری بارے پولیس کو بتائے گی اس کی 100 فیصد ریکوری بذریعہ متعلقہ ممبر تنظیم ہوگی اور ہر ماہ اس طرح کی دو ریکوریاں تنظیمی سفارش پر ہونگی۔ معاہدہ جو کہ غیر تحریر شدہ اور محض زبانی ہے،کےبعد شہر میں امن و امان کا دور دورہ ہے اور خبروں کی نوعیت بھی تبدیل ہو گئی ہے ۔پہلے رپورٹرز خبر فائل کرتے تھے کہ شہر میں اتنی ڈکیتیاں اور اتنے جرائم ہوئے ہیں، اب خبریں شائع ہوتی ہیں کہ شہر میں پولیس نے ڈکیتی، چوری و دیگر جرائم کے اتنے مقدمات درج کر لئےہیں۔وقوعہ بارے تفصیلات کا کہیں ذکر ہی نہیں ملتا۔ ایس ایچ او حضرات کھل کھیل رہے ہیں ،شہری دن رات لٹ رہے ہیں ،فراڈیئے کھل کردھوکے کر رہے ہیں اور تھانوں میں کھل کر ڈیلیں جاری ہیں اوباش شہ اور شاباش پر ہیں اور راوی چین ہی چین لکھ رہاہے۔ دراصل وزیراعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف کے کرائم فری پنجاب کے فیصلے اور عوامی پذیرائی پر مشتمل سلوگن کا سد باب پولیس نے ایک طے شدہ منصوبے کے تحت سب اچھا کی رپورٹیں بنا کر اوپر بھجوانا شروع کر دیا ہے۔






