آدھی کرپشن ختم ہو جائے تو آئی ایم ایف کی ضرورت نہیں رہے گی، وزیر دفاع خواجہ آصف

آدھی کرپشن ختم ہو جائے تو آئی ایم ایف کی ضرورت نہیں رہے گی، وزیر دفاع خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ اگر پاکستان سے 50 فیصد کرپشن ختم ہو جائے تو ہمیں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرض لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ سیالکوٹ چیمبر آف کامرس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ملک کے موجودہ حالات، معاشی مشکلات اور کرپشن کے اثرات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

خواجہ آصف نے کہا کہ وہ صنعتی برادری کے تمام مسائل سے آگاہ ہیں اور ملک اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ تاہم، ان کے مطابق حالات بہتر ہونے کی امید پیدا ہو چکی ہے اور کئی مثبت اشارے مل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کا دباؤ اپنی جگہ ہے، لیکن ہمیں اب معیشت میں بہتری کی روشنی نظر آ رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم آہستہ آہستہ مایوسی کے دور سے باہر آ رہے ہیں لیکن ابھی بھی بہت سی رکاوٹیں موجود ہیں۔ وزیر دفاع نے تسلیم کیا کہ کچھ فیصلے معاشی مجبوریوں کی وجہ سے نہیں لیے جا سکتے، جو کہ اکثر تکلیف دہ ہوتے ہیں۔

وزیر دفاع نے اسٹاک مارکیٹ کی بہتری اور مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ تک کم ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تبدیلیاں بہتری کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ مسائل حل ہوتے جائیں گے۔

خواجہ آصف نے کرپشن کے حوالے سے کہا کہ نان کسٹم گاڑیوں کی اسمگلنگ ایک بڑا مسئلہ ہے اور حلال و حرام کی تمیز ختم ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک بیوروکریٹ نے اپنی بیٹیوں کی شادی میں 4 ارب روپے سلامی کے طور پر کمائے، جبکہ ایک کسٹم کلیکٹر کروڑوں روپے کی کرپشن میں ملوث ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں کے دور میں ملک میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہوئی اور اگر ملک سے صرف 50 فیصد کرپشن ختم کر دی جائے تو پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔

تقریب میں موجود شرکاء نے وزیر دفاع کی گفتگو کو غور سے سنا اور ملک کے مسائل کے حل کے لیے ان کی تجاویز کو سراہا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں