واساافسران عارف اور سعید ڈوگر کی میگا کرپشن ثابت ،پنجاب حکومت کا کارروائی کا حکم

ملتان (عامر حسینی ) حکومت پنجاب نے واسا ملتان کے دو افسران کے خلاف بدعنوانی اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتےہوئے سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے کے الزام میں ڈی جی ایم ڈی اے ملتان کو پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کا حکم دے دیا۔محکمہ ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ و پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پنجاب کی طرف سے جاری کردہ ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی – ڈی جی ایم ڈی اے ملتان رانا محمد سلیم خاں واسا ملتان میں تعینات ڈپٹی ڈائریکٹر عارف عباس اور ڈپٹی ڈائریکٹر انجینئرنگ محمد سعید ڈوگر کے خلاف پیڈا ایکٹ 2024 کے سیکشن 5 بی ، سیکشن 9 اور 10 کے تحت باقاعدہ انکوائری کرکے ان کے خلاف لگے الزامات کی روشنی میں کارروائی کریں ۔ مراسلےمیں دونوں ملزم افسران کے خلاف بدعنوانی اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے کے متعدد سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں اور دونوں واسا افسران پر سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے۔ واسا ملتان میں تعینات ڈپٹی ڈائریکٹر ورکس عارف عباس پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے 27 ستمبر 2022ء کو ایک ڈسپوزل سٹیشن کی تعمیر کے لیے ٹینڈر نوٹس جاری کیا، حالانکہ یہ سکیم پہلے ہی پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پنجاب کے تحت مکمل کی جاچکی تھی اور اس طرح جعل سازی سے ٹھیکے دار کو بوگس بلوں کی مد میں ادائیگی کردی گئی جبکہ سائٹ پر سرے سے کوئی تعمیرات کی ہی نہیں گئی تھی ۔ اسی طرح کا ایک اور جعلی منصوبہ محلہ ہزاریاں یونین کونسل نمبر 24 ملتان میں ڈسپوزل سٹیشن کا بنایا گیا اور اس کا ٹینڈر بھی ڈپٹی ڈائریکٹر ورکس عارف عباس نے جاری کیا اور سرے سے ڈسپوزل سٹیشن تعمیر کیا ہی نہیں گیا جبکہ کاغذات میں منصوبہ مکمل اور تمام تر ادائیگیاں بھی کردی گئیں۔پرائیویٹ ہاؤسنگ منصوبوںکیلئےاین او سی فیس اور سیوریج لائن بچھانے کے چارجز میں بھی کروڑوں روپے کی خورد برد کی گئی ۔ اسی طرح ایس پی بی ایس یو پی پراجیکٹ میں ٹھیکے دار منصوبے کی تکمیل کرنے میں ناکام ر ہا لیکن اسے پھر بھی منصوبے کی تعمیر کے لیے رکھی گئی ساری رقم ایک کروڑ 33 لاکھ روپے کی ادائیگی کردی گئی اور اسکا زر ضمانت بھی ٹھیکےدار کو واپس کردیا کیا جبکہ منصوبہ اب تک نامکمل پڑا ہوا ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ورکس واسا عارف عباس نے متعدد ٹھیکوں کی مد میں دیے جانے والے زر ہائے ضمانت کو غیرقانونی طور پر اپنے ذاتی بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیا اور اس پر ملنے والے منافع کو ہڑپ کرلیا اور اس طرح سے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا-مراسلے میں واسا ملتان میں تعینات ڈپٹی ڈائریکٹر انجنیئرنگ محمد سعید ڈوگر پر الزام ہے کہ بطور ڈائریکٹر انجینئرنگ، واسا (ایم ڈی اے)، ملتان اور واٹر سپلائی ڈویژن کے انچارج کی حیثیت سے عبدالسلام نے 2021 سے اب تک سکریپ مواد اور ناقابل استعمال اشیا کی نیلامی نہیں کی۔ آخری نیلامی 2021 میں ہوئی تھی اور 12 اکتوبر 2023 کو ہاؤسنگ، اربن ڈویلپمنٹ اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ (جنوبی پنجاب) کی جانب سے نیلامی کے لیے مناسب قواعد کے تحت کارروائی کرنے اور پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایات دی گئی تھیں، لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ مستند الزامات کے مطابق ان کی نگرانی میں سکریپ مواد کی غیر مجاز فروخت کی گئی جس سے سرکاری املاک کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔ 22 مئی 2024 کو واسا ملتان کے مختلف واٹر فلٹریشن پلانٹس میں کرومیم پلیٹڈ نلکے فراہم کرنے اور نصب کرنے کے لیے ایم ایس نادر سعید، سرکاری ٹھیکیدار، رہائشی اررم باغ، تحصیل و ضلع مظفر گڑھ کو کنٹریکٹ دیا گیا-۔ تاہم متعلقہ مقامات پر کوئی نلکے نصب نہیں کیے گئے۔ ٹھیکیدار کو 8,33,228 روپے کی ادائیگی کی گئی، جس سے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔ پانی کی سپلائی لائنز بچھانے کے لیے متعدد ٹینڈر جاری کیے گئے۔ ان منصوبوں کے لیے ایک ارب روپے کی ادائیگیاں کی گئیں لیکن کسی مقام پر کام مکمل نہیں ہوا۔ نیو ملتان میں واساملتان کو پی ایچ اے ٹی اے کی جانب سے دیے گئے 50 پلاٹس کو عبدالسلام کی نگرانی میں غیر قانونی طور پر فروخت کیا گیا اور کوڈل اور قانونی ضوابط پر عمل نہیں کیا گیا۔بطور ڈائریکٹر ریکوری عبدالسلام پر مختلف صنعتوں کے مالکان کے ساتھ ملی بھگت کا الزام ہےجنہیں نکاسی اور پانی کی سپلائی کے ٹیکس بل مقررہ شرح سے کم نرخوں پر جاری کیے گئے۔ اہم صنعتوں میں پیپسی کولا فیکٹری، ملتان انڈسٹریل اسٹیٹ، اور گورمے فیکٹری شامل ہیں جس سے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔مختلف معاہدوں کی سکیورٹی رقوم ذاتی اکاؤنٹس میں جمع یا منتقل کی گئیں تاکہ ذاتی فائدہ حاصل کیا جا سکےجس سے سرکاری خزانے کو مزید مالی نقصان پہنچا۔ڈی جی ایم ڈی اے ملتان رانا محمد سلیم کو بھجوائے گئے مراسلے میں کہاگیا ہے کہ ان افسران کے خلاف سب سے پہلے سیکشن افسر ای ون محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن پنجاب کو محلہ قدیر آباد ملتان کے رہائشی نے کرپشن اور اختیارات کےتجاوز کرنے کے خلاف کارروائی کی درخواست ارسال کی جنھوں نے اسے محکمہ ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجنئرنگ کو ان شکایات پر دو دن میں انکوائری کرنےکا حکم دیا اور محکمے نے ایم ڈی واسا کو تین دن میں انکوائری کرکے سفارشات ارسال کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسی طرح کی ایک اور درخواست واپڈا ٹاؤن ملتان کے رہائشی کی طرف سے موصول ہوئی ۔شکایات کے تسلسل کے سبب محکمے نے ایم ڈی واسا ملتان کو 25 مارچ 2024ء کو انکوائری افسر مقرر کیا- ملزم محمد سعید نے انکوائری رکوانے کے لیے عدالت کو گمراہ کرتے ہوئے انکوائری رکوانے کے لیے عدالت سے ایک حکمنامہ حاصل کیا اور محکمے سے جواب طلب کیا تو سیکرٹری خدمات شوکت علی نے کیس کا جائزہ لے کر 15 جولائی 2024 کو نتیجہ اخذ کیا کہ درخواست گزار نے انکوائری میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے عدالت کو گمراہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ سرکاری محکمے اپنے دائرہ کار میں خودمختار ہیں اور انکوائریوں کو منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے۔ اس کے مطابق درخواست کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا گیا۔مزید شکایات شفاقت حیات اور ملک منیر ہانس نے دائر کیں جن میں افسران کے سنگین بدعنوانی کے الزامات لگائے گئے۔ اس کے نتیجے میں، سپیشل سیکرٹری ایچ یو ڈی اینڈ پی ایچ ای ڈی جنوبی پنجاب نے خود تحقیقات کیں۔مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزم افسران کو دفاع کے لیے متعدد مواقع دیئے گئے، جن میں سماعت اور متعلقہ دستاویزات جمع کرانے کے لیے کافی وقت شامل تھا۔ لیکن وہ اپنے خلاف الزامات کا مناسب دفاع کرنے میں ناکام رہے اور بعض اوقات مطلوبہ ریکارڈ پیش کرنے میں بھی ناکام رہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں