ملتان(سٹاف رپورٹر)کسٹم افسران خواتین کے تین رکنی گروہ نے گزشتہ چند ماہ میں جتنی کرپشن اور لوٹ مار جاری رکھی ہوئی ہے۔ اس سے پہلے کبھی بھی اس طرح کھل کر پھیرے بازی نہیں ہوئی اور اتنا کھلے عام سمگلنگ کا یہ دھندہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک اعلیٰ ترین افسران کی آشیر باد نہ ہو۔ طیبہ معید کیانی حنا گل اور تانیہ مہمند نے اس وقت سارے کسٹم ڈیپارٹمنٹ کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ حال ہی میں ممبر کسٹم جنید افضل نے 100 سے زائد تبادلے کئےاور ان تبادلوں کی تمام تر فہرست تانیہ مہمند ہی نے مرتب کی کیونکہ وہ ممبرکسٹم جنید افضل کی دست راست سمجھی جاتی ہیں اور جنید افضل ان پر بہت زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔ فیصل آباد ائر پورٹ پر تعینات رہنے والے ایک کسٹم اہلکار نے بتایا کہ انہوں نے 34 سال ملازمت کی ہے کبھی بھی اتنا کھل کر سر عام سمگلنگ کا دھندہ بیک وقت پنجاب کی تمام ائیر پورٹس پر نہیں ہوتا تھا جتنا کھل کر اس وقت بیک وقت تمام انٹر نیشنل فلائٹس میں ہو رہا ہے اور اس ایک ماہ میں جتنی ولایتی شراب لاہور اور ملتان میں لائی گئی ہے تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ گائےبھینسوںکو لگائے جانے والے انجیکشن کے ایک بیگ کا ریٹ 2 لاکھ 50 ہزار سے 3 لاکھ تک ہوتا تھاجو خواتین افسران نے بڑھا کر 5 لاکھ کر رکھا ہےاور ایک پھیرے باز جسے کھیپا اور افسران کی زبان میں پروٹوکول کہا جاتا ہے ایک ہی پھیرےمیں آسانی سے دو بیگ لے آتا ہے۔ اس انجیکشن جس کا نام بوسٹن ہے، دنیا بھر میں ممنوع ہے مگر پاکستان میں اس کی مانگ اس لئے بڑھتی جارہی ہےکہ بھینسوں میں اس انجیکشن کے لگانے سے 30 سے 40 فیصد دودھ بڑھ جاتا ہے کیونکہ یہ ہارمونز میں تحریک پیدا کرتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ گوجرانوالہ میں تعینات کسٹم انٹیلی جنس کے ایک آفیسر نے طیبہ معید کیانی کے خلاف مکمل تبوتوں کے ساتھ ایک درخواست چیئر مین ایف بی آر کو بھجوائی مگر انہوں نے فائل ہی غائب کر دی جبکہ درخواست دہندہ کو دھمکایا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ تانیہ جو کہ ڈپٹی کلکٹر ہیں اور ان کی تنخواہ 2 لاکھ سے کم ہے مگر وہ جس کرائے کے گھرمیں قیام پذیر ہیں اس کا ماہوار کرایہ7 لاکھ روپے ہے۔ کلکٹر ائیر پورٹس پنجاب طیبہ معید کیانی سے شیخو پورہ کے ایک سمگلر شیخ اعظم عرف چوہا کے ساتھ کاروباری شراکت داری کر رکھی ہےجس کا زیادہ تر مال فیصل آباد اور سیالکوٹ کے ائیر پورٹس کے ذریعے آتا ہے اور اس کا اوسطاً ایک پھیرے باز تو روزانہ پروٹوکول لیتا ہے۔ پروٹوکول لینے کا مطلب ہے کہ اسے بغیر کسی بھی قسم کی چیکنگ نہ صرف کلیئر کر دیا جاتا ہے بلکہ اکثر اوقات کسٹم افسران کی گاڑیوں میں یہ سامان محفوظ مقامات تک لے جایا جاتاہے ۔ ایک کسٹم آفیسر نے روزنامہ ’’قوم‘‘ کو بتایا کہ کسٹم کی یہ تینوں افسران حکومت پاکستان کو کم سے کم 50 سے 70 ارب کا ماہانہ نقصان پہنچا رہی ہیں اور اس نقصان کی قیمت پاکستان کا ہر شہری اضافی ٹیکس کی شکل میں ادا کررہا ہے۔ اگر کسٹم حکام ائیر پورٹس پر سمگلنگ بندکر دیں تو ملکی ریونیو میںکھربوں روپے کا اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ فارمولا یہ ہے کہ حکومت کو اگر ایک کروڑ کا نقصان پہنچے تو ان افسران کو زیادہ سے زیادہ 20 فیصد ہی ملتا ہے اس طرح یہ وہ ظالم گروہ ہے جو ایک بوٹی کیلئے ایک اونٹ نہیں بلکہ اونٹوں کا پورے کا پورا گلہ ہی روزانہ کی بنیاد پر ذبح کررہا ہے۔






