ملتان (سٹاف رپورٹر) این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے برطرف سابق وائس چانسلر اختر علی ملک کالرو کے برطرف شدہ دست راست اور کار خاص کے حوالے سے مزید انکشافات سامنے آئے ہیں۔ جون 2012 میں تعینات ہونے والے سابق وائس چانسلر اختر علی ملک کالرو کے حوالے سے اکتوبر 2012 میں ہی مقامی اخبارات میں انکشافات ہوئے اور این ایف سی ہیڈ آفس کی خفیہ رپورٹ میں بھی اس بات کا تذکرہ کیا گیا کہ این ایف سی یونیورسٹی ملتان میں تمام ناجائز کام وائس چانسلر اختر علی اور ڈپٹی رجسٹرار ایڈمن طاہر حسین میو مل کر کرتے ہیں۔ یونیورسٹی میں اختر علی ملک کالرو کے سامنے نظریں اٹھانے والے ملازمین اور ٹیچرز پر جھوٹی انکوائریاں ڈلوانے کی ذمہ داری بھی اختر کالرو نے طاہر حسین میو کے ذمے لگا رکھی تھی جو کہ جھوٹی انکوائریاں مینیج کرنے میں ماہر تھے۔ اختر علی ملک کالرو نے طاہر حسین میو ہی کی مدد سے ادارے میں پولیٹکل سیل قائم کیا ہوا تھا۔ ادارے میں اور ہاسٹل میں منشیات کی سپلائی کا کام مبینہ طور پر دو مخصوص لوگوں کے گروہ کی مدد سے جاری رہا۔ ایک کرسچین ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ طاہر حسین میو ان سے شراب کی بوتلیں ملتان کے بڑے ہوٹل سے ان کے لائسنس پر منگوا کر مہمانان کو مہیا کرتا تھا اور اس بلیک میلنگ کے ذریعے اختر کالرو سے اپنے ناجائز اور غیر قانونی کام نکلوا لیا کرتا تھا۔ برطرف وائس چانسلر کیلئےمبینہ طورپر رنگا رنگ محفلیں سجانا طاہر حسین میو، ڈپٹی رجسٹرار کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے ایک آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ طاہر حسین میو کا یونیورسٹی میں کوئی کام نہ تھا۔ وہ صرف برطرف وائس چانسلر کے لیے گیسٹ ہاؤس اور وائس چانسلر ہاؤس میں رنگا رنگ محفلیں سجانے میں پیش پیش ہوتے تھے۔ اس بارے میں جب نکالے گئے ڈپٹی رجسٹرار ایڈمن طاہر حسین میو سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے یہ محض الزام ہے۔






