این ایف سی ،ڈاکٹر نعیم اسلم کی دکانداری ،زبردستی نوٹس فروخت ،6ماہ میں 20 لاکھ کمائی ،طلبہ کی جاسوسی

این ایف سی ،ڈاکٹر نعیم اسلم کی دکانداری ،زبردستی نوٹس فروخت ،6ماہ میں 20 لاکھ کمائی ،طلبہ کی جاسوسی

ملتان (سٹاف رپورٹر) سپریم کورٹ سے برطرف ہونے والے وائس چانسلر ڈاکٹر اختر علی ملک کالرو کے چہیتے مشکوک رشین ڈگریوں کے حامل ڈاکٹر کامران لیاقت بھٹی سربراہ الیکٹریکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے بعد ایک اور چہیتے ڈاکٹر نعیم اسلم سربراہ کمپیوٹر سائنس کی بھی غیر متعلقہ ڈگریوں کے باوجود سربراہ کمپیوٹر سائنس کی کرسی پر 14 سال غیر قانونی قبضے کے بعد مزید شکایات کے حوالے سے نئے وائس چانسلر کو درخواست دے دی گئی۔ ہیڈ آف کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ (HoD) طلبہ کو یونیورسٹی کی فوٹو کاپی شاپ سے مخصوص کورس کے نوٹس اور نوٹ بکس خریدنے کیلئے اصل قیمت سے کافی زیادہ قیمتوں پر مجبور کرتے ہیں اور کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ کے 1500 طلبا و طالبات کو مہنگائی کے اس دور میں یونیورسٹی کی فوٹو شاپ پر موجود نوٹ بکس اور نوٹس مہنگے داموں خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ماضی میں بھی مکینیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے ایک ٹیچر محمد عمیس نے طلباو طالبات کو مجبور کیا تھا کہ وہ لیب کی پریکٹیکل نوٹ بکس ان سے خریدیں۔ بصورت دیگر ان کو پریکٹیکل میں نمبر پورے نہ دیئے جائیں گے۔ جس کی شکایت اس وقت کے فوٹو کاپی شاپ کے ٹھیکیدار محمد عامر نے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ سے بھی کی تھی مگر ایک انتظامی افسر نے اس پر کوئی کارروائی نہ ہونے دی۔ اسی طرح کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ کے تمام 1500 طلبا و طالبات کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ ڈیٹا سٹرکچر، پروگرامنگ ، ریاضی کے نوٹس فوٹو کاپی شاپ سے مہنگے داموں لیں۔ فوٹو کاپی شاپ کے ٹھیکیدار مجبوری کے باعث چپ رہنے پر مجبور ہیں اور ڈاکٹر نعیم اسلم سربراہ کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہے ہیں۔ ان زبردستی کی خریداری کے باعث ڈاکٹر نعیم اسلم ایک سمسٹر میں تقریباً 15 سے 20 لاکھ منافع حاصل کر لیتے ہیںجو طلبہ پر ایک غیر مناسب مالی بوجھ ہے اور طلبہ ادارے کی نئی انتظامیہ سے گزارش کرتے ہیں کہ قیمتوں کے ان تضادات کا جائزہ لیں۔ مزید یہ کہ ڈاکٹر نعیم اسلم سربراہ کمپیوٹر سائنس پرائیویسی کی خلاف ورزیاں اور تذلیل کرتے ہیں۔ سربراہ کمپیوٹر سائنس کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق ڈپارٹمنٹل اٹینڈنٹس اکثر طلبا کی تصویر بناتے ہیں اور ان کی سرگرمیوں کی اطلاع HoD کو دیتے ہیں، طلباکی معلومات پر دخل اندازی کرتے ہیں، بعض صورتوں میں HoD نے طلبا کے والدین کو بلایا ، طلبا کو ان کے ہم جماعتوں اور خاندانوں کے سامنے عوامی طور پر ذلیل کیا گیا۔ ایک واقعہ میں ایک اٹینڈنٹ نے ایک ساتھ بیٹھے طالب علم اور طالبہ کی ویڈیو ریکارڈ کی جس کے بعد مبینہ طور پر سربراہ کمپیوٹر سائنس نے اس ویڈیو کو دونوں طالب علموں کو ہراساں اور بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کیا۔ جب طلبا خدشات کا اظہار کرتے ہیں یا ان کارروائیوں پر بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں اکثر یونیورسٹی سے نکالنے کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ HoD نے واضح طور پر کہا تھا کہ اس کے پاس سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اختر علی ملک کالرو کی طرف سے عطا کردہ اختیار ہے، جو کہ طلباء و طالبات کے دل میں نفرت پیدا کر رہا ہے سربراہ کمپیوٹر سائنس ساتھی ٹیچرز اور طالب علم دونوں سے بات کرتے ہوئے اخلاقیات کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ یونیورسٹی میں دیگر اساتذہ اور طلبا و طالبات سے اس قسم کا رویہ طلبا و طالبات کو اخلاقی گراوٹ کی طرف لے کر جا رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں