ملتان(سٹاف رپورٹر)صرافہ بازار ملتان میں چوری کا سونا خریدنے والوں، منی لانڈرنگ کرنے والوں، جرائم پیشہ افراد کو مخبریاں کر کے سنگین نوعیت کی عورتوں سے حاصل کی گئی معلومات کی روشنی میں واردات کرانے والوں اور سونے کی ملاوٹ شدہ اینٹیں بنانے والے صراف حضرات اور پولیس کا گٹھ جوڑ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ 28 سال قبل 1996 میں اہم خلیجی ملک سے ایک شخص 21 کلو سونا لے کر کراچی آیا اور پھر کراچی سے زیورات بنوانے کیلئے ملتان آیا۔ اس زمانے میں ملتان میں سونے کے زیورات بہت نفاست سے بنائے جاتے تھے اور یہاں دیگر ممالک اور پاکستان کے دیگر شہروں کی نسبت مزدوری بھی خاصی کم ہوا کرتی تھی جس کی وجہ سے بہت سے تاجر اورصراف ملتان سے زیورات بنا کر خلیجی ممالک میں فروخت کرتے تھے اور یہ کام قیام پاکستان کے بعد سے جاری تھا جو اب خاصا کم ہو گیا ہے کیونکہ بہت سے پاکستانی اور ملتانی کاریگر خلیجی ممالک میں چلے گئے ہیں اور وہاں زیورات بناتے ہیں۔ ہوا یوں کہ 21 کلو سونا لے کر آنے والے شخص کو غائب کر دیا گیا اور اس وقت صرافہ بازار کی انجمن تاجران کے صدر رؤف شاہ اور سابق ڈی ایس پی حرم گیٹ سونےکی اس چوری میں ملوث تھے۔ چند دنوں بعد ہی صرافہ بازار کے ایک کمرے سے ایک مسخ شدہ لاش ملی مگر اس وقت کے مقبول نامی ڈی ایس پی نے رؤف شاہ کے ساتھ مل کر اس معاملے کی تفتیش کا رخ ہی موڑ دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ مسخ شدہ لاش اسی شخص کی تھی جو خلیجی ملک سے 21 کلو سونا لے کر پاکستان آیا تھا ۔بتایا گیا ہے کہ سالہا سال تک وہ مقدمہ چلتا رہا اورصرافہ بازار ہی کا زین نامی ایک تاجر اس خلیجی ملک کے شہری کے مقدمے کی پیروی کرتا رہا کیونکہ اس کے پاس اس مقدمے کی پیروی کیلئے پاور آف اٹارنی تھا مگر 28 سال میں مقدمے کا کیا بنا اس بارے معلومات کی جا رہی ہے۔






