یوای ٹی لاہور،نئی اتنظامیہ عملے کو مہنگی پڑ گئی، تنخوا نہ بڑھائی ٹیکس بڑھا دیا ،ہاتھ کھڑے

یوای ٹی لاہور،نئی اتنظامیہ عملے کو مہنگی پڑ گئی، تنخوا نہ بڑھائی ٹیکس بڑھا دیا ،ہاتھ کھڑے

ملتان (قوم ریسرچ سیل) یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کی انوکھی منطق، تنخواہ پرانی مگر ٹیکس نیا۔ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کی نئی انتظامیہ یونیورسٹی ملازمین کے لیے اذیت کا باعث بن چکی ہے۔ تفصیل کے مطابق پنجاب حکومت نے تمام سرکاری ملازمین کیلئے تنخواہوں میں 20 اور 25 فیصد اضافے کا اعلان کیا مگر یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کی انتظامیہ نے تنخواہوں میں اضافے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس ملازمین کے لیے تنخواہوں میں اضافے کے لئے فنڈز نہیں ہیں جبکہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ نے ٹیکس ا ضافہ شدہ شیڈول کے مطابق کاٹنا شروع کر رکھا ہے جس سے اس یونیورسٹی کے تمام ملازمین کی تنخواہوں میں کمی واقع ہو گئی ہے۔ اس صورتحال میں ملازمین مہنگائی کے اس دور میں شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔ ملازمین سے جب اس بارے میں رائے لی گئی تو ان کا موقف تھا کہ تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے کے باعث ہم قرضے لینے پر مجبور ہیں اور اپنے کام میں توجہ بھی نہیں دے پا رہے۔ بجلی و گیس کے بل اور متفرق اخراجات پورے نہیں ہو رہے تو کام میں توجہ کرنا مشکل ہے۔ اسی شدید ذہنی اذیت کے باعث متعدد ملازمین یونیورسٹی چھوڑ کر دوسرے اداروں کے رخ کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ اس بارے میں جب یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے پی آر او ڈاکٹر تنویر قاسم جن کا تعلق اسلامیات ڈیپارٹمنٹ سے ہے اور جن کا پبلک ریلیشنگ کا سرے سے کوئی تجربہ ہی نہیں ہے، سے موقف کے لئے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے گورنمنٹ سے بیل آؤٹ پیکیج کی درخواست کی ہوئی ہے ۔ جیسے ہی بیل آؤٹ پیکیج منظور ہو گا تبھی ملازمین کو تنخواہوں میں اضافہ دینا ممکن ہو سکے گا۔ یونیورسٹی کے فنانس ڈیپارٹمنٹ نے تنخواہوں میں اضافہ کرنے کےبجائے پرانی تنخواہوں پر ہی اضافہ شدہ تنخواہوں کے حساب سے ٹیکس بھی کاٹنا شروع کر دیا ہے۔ سول انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والے ایک لیکچرار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کی تنخواہ 125000 کے لگ بھگ ہے جو کہ 20 فیصداضافہ کے ساتھ تقریباً 138000 ہو جانی تھی۔ پہلے ان کو ٹیکس کاٹ کر 115000 ملتی تھی مگر اب نئی تنخواہ کے حساب سے ٹیکس لگا کر پرانی تنخواہ سے کاٹ کر دی جا رہی ہے جو کہ 110000 بنتی ہے۔ مہنگائی کا تناسب 100٪ بڑھ گیا ہے۔ تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے پنجاب یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد منیر سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ اضافہ دے چکے ہیں۔ اسی طرح پنجاب کی بڑی یونیورسٹیاں بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور بھی اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کر چکی ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں