مہر علی، فرحان، ڈی ایس پی رانا ظہیر خان بابر، صحافی عمران خان اور شہباز قمر فریدی

زلیخا سے ریپ کرنیوالا کون،اعتراف کے باوجود شہباز قمر فریدی آزاد کیوں ،ملتان پولیس کیلئے کئی معمے

مہر علی، فرحان، ڈی ایس پی رانا ظہیر خان بابر، صحافی عمران خان اور شہباز قمر فریدی

ملتان ( سٹاف رپورٹر) ملک کے مشہور نعت خواں شہباز قمر فریدی کو سویٹ ڈش کہہ کر ڈی ایس پی گلگشت رانا ظہیر بابر کے کاروباری ساتھی مہر علی ، صحافی عمران خان اور فرحان نامی اوباشوں کی طرف سے ٹریپ کرکے بھجوائی جانے والی لڑکی زلیخا صدیق نے ڈی ایس پی رانا ظہیر بابر، ایس ایچ او ویمن پولیس سٹیشن ارم حنیف کی طرف سے مبینہ تشدد اور اس کے سارے خاندان کو نشان عبرت بنانے کی دھمکیوں سے خوفزدہ ہو کر سینٹرل سول جج کریمنل ڈویژن ملتان احسان صابر کی عدالت میں164 کے بیان میں یہ تسلیم کیا کہ وقوعہ کی رات تھانہ بی زیڈ کی حدود میں اس کا ریپ ہوا ہے مگر ان ملزمان نے نہیں کیا اب چونکہ ملزمان میں سے ریپ کرنے والے نعت خواں شہباز قمر فریدی کا نام سرے سے تھانہ بی زیڈ میں درج ہونیوالی ایف آئی آر میں نہیں ڈالا گیا تو زلیخا نے کہا کہ ان تینوں ملزمان مہر علی ، عمران خان اور فرحان نے اس کے ساتھ ریپ نہیں کیا جس پر تینوں ملزمان کی ضمانت ہوگئی اور یہ سوال بیچ میں رہ گیا کہ زلیخا کا ریپ کس نے کیا جبکہ شہباز قمر فریدی نامی نعت خواں جوکہ پاکپتن کا رہائشی اور پاکپتن کے سابق ایم پی اے دیون عظمت فیض محمد چشتی کے نوکر کا بیٹا ہے کو پہلے ہی تھانہ بی زیڈ کے مقدمے میں نامزد ہی نہ کیا گیا تھا جبکہ ویمن پولیس سٹیشن میں ارم حنیف اور رانا ظہیر بابر کے تشدد کے باعث زلیخا کو معافی نامہ لکھنے پر مجبور کردیا گیا اس طرح درجنوں ثبوتوں، پولیس کے 15 ریکارڈ، آڈیو ریکارڈنگ اور تھانہ بی زیڈ کے حوالات میں ملزم شہباز قمر فریدی کے اقبالی بیان کے باوجود ملزم نہ صرف باعزت گھر بھجوادیا گیا بلکہ اگلے ہی روز وہ لاہور میں ایک محفل نعت میں مدحت رسول بیان کرتا ہوا پایا گیا۔ شہباز قمر فریدی بارے پاکپتن سے روزنامہ قوم نے جو معلومات حاصل کی تو اس کے قریبی دوستوں کے اس کی شراب نوشی کی مبینہ عادت اورغیر اخلاقی معاملات کی تصدیق کی جبکہ جب تھانہ بی زیڈ کی حوالات میں اسے بند کیا گیا تھا تو بھی وہ نشے میں مدہوش تھا۔ ملتان پولیس کے ماتھے پر یہ بدنامی کے سیکڑوں داغوں میں ایک اور نمایاں داغ ثبت ہوگیا ہے کہ رنگے ہاتھوں پکڑا جانے والا شہباز قمر کیسے باعزت رہا کیا گیا اور ایک محنت کش خاتون جوکہ خواتین کے چہروں کی اپ لفٹنگ اور بیوٹیشن کے ذریعے روزگار کماتی تھی اور جس کا اس قسم کا ٹریک ریکارڈ ہی نہ تھا کیونکر ڈی ایس پی گلگشت رانا ظہیر بابر کے عتاب کا شکار ہوئی اور کیا پولیس جیسے یونیفارمڈ محکمے میں ہونے والے رانا ظہیر بابر اپنے دوستوں کے کردار بارے آگاہ نہ تھے ۔ کیا ان کے تمام دوستوں کی اکثر راتیں اکٹھی نہ گزرتی تھی۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر ریپ نہیں ہوا تو 27 لاکھ 50 ہزار کس مد میں دیئے گئے ؟ شہباز قمر فریدی کو گھر کا دروازہ توڑ کر کیوں نکالا گیا ؟ زلیخا کو رقم دینے کی تصویر عمران خان نے بناکر کس کو بھجوائی؟ عمران خان زلیخا کے علاوہ علی ارسلان نامی صراف سے کیا مطالبہ کرتا رہا جوکہ اگلے روز صبح وکیل رانا ارسلان کے کہنے پر زلیخا کی حمایت کیلئے تھانہ بی زیڈ گیا؟ دو ایف آئی آر کا اندراج کیونکر کیا گیا حالانکہ وقوعہ ایک ہی تھا اور پنجاب بھر میں اس قسم کی ’’ واردات‘‘ ملتان پولیس ہی ڈالتی ہے ؟ کس کے کہنے پر زلیخا جوکہ مدعیہ تھی ویمن پولیس اسٹیشن کی حوالات میں بند کیا گیا؟ اس کا کیوں کر طبی معائنہ لیٹ کیا گیا؟ کیوں کر Violance against women والوں کو زلیخا کا اپنے طور پر طبی معائنہ خفیہ طور پر رات کے 12 بجےکرانا پڑا؟ کیونکر ریپ کی متاثرہ پر تشدد ہوا؟ کون ہے جو اس کے سارے گھرانے کو بلیک میل کررہا ہے ؟ اور ضلع وہاڑی میں موجود اس کا سارا خاندان کس کے سخت ترین دبائو میں ہے ۔ یہ سوالات بھی ہیں جس کا جواب ملتان پولیس کے افسران کو معلوم کرنا ہوگا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں