ملتان ( جاوید اقبال عنبر سے ) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا منصب سنبھالنے کے بعد ملتان کا پہلا مختصر دورہ ، نشتر ہسپتال میں سوا دو گھنٹے سے زائد قیام ، ڈپٹی کمشنر ملتان وسیم حامد سندھو کی سرزنش ، ایڈز معاملے پر میٹنگ کے دوران ایم ایس نشتر ڈاکٹر کاظم خان، اے ایم ایس ڈاکٹر شاہ زمان اور نیفرالوجی ہیڈ ڈاکٹر غلام عباس کو کمرے سے نکال دیا گیا،ایڈز معاملہ وی سی ، ایم ایس سمیت 7 ڈاکٹرز و سٹاف کی مجرمانہ غفلت قراردیدیا ، سیکرٹری ہیلتھ پنجاب کو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ، لائسنس کینسل کرنے کا حکم دیدیا۔
کارکنان قائد سے ملنے کو ترستے رہے ،میڈیا سے بھی کوئی بات کئے بغیر واپس روانہ ہوگئیں ۔ تفصیل کے مطابق مریم نواز نے وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد گزشتہ روز ملتان کا پہلا مختصر ترین دورہ کیا ۔ وزیراعلیٰ پنجاب کوٹ ادو تونسہ بیراج کے مقام پر کچھی کینال کے افتتاح کے بعد ملتان آئیں اور ایئر پورٹ سے نشتر ہسپتال ملتان کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے نشتر ہسپتال میں ایڈز پھیلنے کے واقعہ بارے میٹنگ کی ،وائس چانسلر ڈاکٹر مہناز خاکوانی ، پرنسپل نشتر میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر راشد قمر راؤ و دیگر موجود تھے ،ذرائع کے مطابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مہناز خاکوانی نے وزیراعلیٰ پنجاب کو یونیورسٹی اور ہسپتال کو درپیش مسائل بارے بریفنگ دی ، مریم نواز نے ڈاکٹرز اور سٹاف سے فرداً فرداً ملاقات کی اور نیفرالوجی وارڈ کے ڈائیلسز یونٹ میں ایچ آئی وی کے مریضوں بارے دریافت کیا ۔ ذرائع کے مطابق ایم ایس ڈاکٹر کاظم خان، نیفرالوجی وارڈ کے ہیڈ ڈاکٹر غلام عباس اور اے ایم ایس ڈاکٹر شاہ زمان کو کمرے سے نکال دیا گیا ۔
ذرائع کے مطابق نشتر میں ایڈز پھیلاؤ کے معاملے پر ایم ایس ڈاکٹر کاظم خان ، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ نیفرالوجی وارڈ ڈاکٹر غلام عباس ، ایسوسی ایٹ پروفیسر نیفرالوجی وارڈ ڈاکٹر پونم خالد ، اسسٹنٹ پروفیسر نیفرالوجی وارڈ ڈاکٹر ملیحہ ، ایڈمن رجسٹرار نیفرالوجی وارڈ ڈاکٹر عالمگیر اور ہیڈ نرس نیو ڈائیلسز یونٹ ناہید پر ذمہ داری عائد کی گئی ہے جبکہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مہناز خاکوانی نے محکمانہ انکوائری میں تاخیر کا مظاہرہ کیا۔ اس کے علاوہ ریکارڈ میں بھی ہیرا پھیرا کی کوشش بھی کی گئی ۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے ایچ آئی وی پھیلاؤ کے معاملے کو مجرمانہ غفلت قرار دیا اور سیکرٹری ہیلتھ پنجاب کو ذمہ دار ڈاکٹرز و سٹاف کے خلاف کارروائی اور ان کے لائسنس کینسل کرنے کی ہدایت کی۔ بعدازاں مریم نواز نے نشتر ہسپتال کی ایمرجنسی کا دورہ کیا جہاں مریض برآمدے میں موجود اور ایک ایک بیڈ پر دو دو ،تین تین مریض لیٹے ہوئے تھے ،ایک سٹریچر پر بزرگ مریض بھی موجود تھا جسے وزیراعلیٰ پنجاب نے بیڈ پر شفٹ کرایا ، مریضوں کی مشکلات دیکھ کر مریم نواز نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ملتان وسیم حامد سندھو کی سرزنش کی اور کہا کہ وہ کیا کررہے ہیں ، کیا وہ نشتر ایمرجنسی کا وزٹ نہیں کرتے ، نشتر پر ان کا فوکس کیوں نہیں ،کیا وہ اس معاملے کو خود نہیں دیکھتے ۔ نشتر ایمرجنسی میں مریم نواز سے تین چار ماہ کی تنخواہوں سے محروم آیاؤں نے بھی ملاقات کی اور اپنے تحفظات سے ان کو آگاہ کیا جس پر وزیراعلیٰ پنجاب نے چیف سیکرٹری پنجاب کو حکم دیا کہ ان ملازمین کی تنخواہوں کا مسئلہ فوری طور حل کرایا جائے ۔
وزیراعلی پنجاب اڑھائی گھنٹے قیام کے بعد واپس لاہور روانہ ہوگئیں ۔ اس موقع پر مسلم لیگ ن کے کارکنان اور میڈیا نمائندگان بھی وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات اور گفتگو کے لیے موجود تھے تاہم وہ کسی سے بات کئے بغیر واپس روانہ ہوگئیں۔ تاہم مسلم لیگ ن کے رہنما عقیل انصاری اور ان کی والدہ ایم پی اے مقصودہ انصاری وزیراعلیٰ پنجاب کے ہمراہ تھے جبکہ نشتر ہسپتال کے باہر مسلم لیگ ن کے کارکنان بھی اپنی قائد کی ایک جھلک دیکھنے کو بے قرار رہے ، اس موقع پر ن لیگ کے کارکن فرحان انصاری کوسکیورٹی نے آگے نہ بڑھنے دیا جس پر وہ سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ الجھتے نظر آئے اور قیادت کے ناروا رویے پر سخت نالاں دکھائے دیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹ کے وقت کارکن یاد ہوتے ہیں بعد میں ان کو کوئی نہیں پوچھتا ۔سینیٹر پرویز رشید ، وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری ، ثانیہ عاشق اور چیف سیکرٹری پنجاب بھی مریم نواز کے ہمراہ تھے ۔دوسری جانب ذرائع کے مطابق فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کی روشنی میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے نشتر ہسپتال کے ایم ایس،نفرالوجی وارڈ کے سربراہ، ایسوسی ایٹ پروفیسر،اسسٹنٹ پروفیسر، ایڈمن رجسٹرار اور ایک نرس کو معطل کر دیاہے۔






