ملتان(عامرملک سے)زکریا یونیورسٹی ملتان کی سٹاف کالونی میں تھا نہ الپہ کے خفیہ ٹارچر سیل کا اس وقت انکشاف ہوا جب پولیس کی غیر قانونی حراست سے احسن نامی ایک الیکٹریشن ہتھکڑی سمیت فرار ہو کر رات کے اندھیرے میں اپنے گھر پہنچ گیا۔ پولیس تھانہ الپہ نے واقفان کو بیچ میں ڈال کرہتھکڑی واپس لے لی اور احسن کو بے گناہ تسلیم کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگربان کھولی تو پھر زبان مکمل طور پر بند کر دی جائے گی یہ ٹارچر سیل کئی سالوں سے گلی نمبر8 میں قائم کیا گیا ہے جہاں غیر قانونی طور پر ریکارڈ پر لائے بغیر اٹھائے جانے والے افراد کو رکھ کر بھاری ڈیلیں کی جاتی تھیں۔ غیر قانونی طور پر حراست میں رکھے جانے والے احسن کے بھاگ جانے کی اطلاع جب الپہ پولیس کو ہوئی تو یونیورسٹی کے مین گیٹ سمیت تمام راستوں پر پولیس نے تھڑا مارے رکھا مگر یونیورسٹی کے ایک ملازم نے اسے ایک غیر معروف خفیہ راستے سے باہر نکال دیا جو کہ پیدل گزرنے کا راستہ تھا۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ اغوا کاروں کے ایک منظم گینگ نے فضا شیخ نامی لڑکی کے ذریعے امیر نوجوانوں کو ٹریپ کر کے اغوا کرنے اور لاکھوں روپے تاوان وصول کرنے کا دھندا شروع کر رکھا ہے۔ دو ماہ گزرنے کے باوجود پولیس اس گینگ تک پہنچنے میں بری طرح ناکام اور بے بس ہو چکی ہے۔ اس بھتہ خور گینگ کی اس رکن لڑکی فضا شیخ نے آن لائن بزنس سے وابستہ ایک آن لائن فراڈیئے محسن رضا شاہ ولد سید زاہد حسین شاہ سکنہ کہکشاں سٹریٹ گلی نمبر5/6 ملتان جو کہ 23 سالہ نوجوان ہیں اور یہ بھی مختلف اکاؤنٹ سے بھاری رقوم چوری کرنے کا دھندا کرتا ہے ۔محسن رضا شاہ کی فیس بک کے ذریعے فضا شیخ سے دو ماہ تک دوستی چلی اور پھر ملاقات کا وقت طے ہوا ۔فضا شیخ نے خود کو زکریا یونیورسٹی کی طالبہ ظاہر کر کے 30 ستمبر 2024 کو یونیورسٹی میں کینٹین پر ملاقات کا وقت طے کیا اور بمطابق شیڈول محسن رضا شاہ یکم اکتوبر 2024 کی دوپہر گاڑی نمبر868ARGفارچونر جس کا سیاہ رنگ ہے پر یونیورسٹی پہنچا اور وہاں سے اس نے فضا کو گاڑی میں بٹھایا اور شہر کی مختلف سڑکوں سے ہوتے ہوئے کھانا کھانے ڈی ایچ اے کے ایک ریستوران میں چلے گئے جہاں محسن رضا شاہ اور فضا شیخ نے کھانا کھایا اور پھر شہر کی سڑکوں پر ڈرائیو کرتے ہوئے فضا شیخ کو فون کال آئی تو اس نے کہا کہ مجھے واپس زکریا یونیورسٹی چھوڑدو میرا کزن مجھے لینے آرہا ہے جس پر یونیورسٹی میں میلز کیفے پر اس نے گاڑی کھڑی کی اور فضا شیخ کو اتارنےکیلئے گاڑی ان لاک کی تو گاڑی کے دونوں اطراف سے چار افراد گاڑی میں داخل ہو گئے اسے پچھلی سیٹ پر بٹھا کر ارد گرد مسلح افراد پسٹل تان کر بیٹھ گئے اور ان میں سے ایک نے گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی اور محسن رضا سے کہا کہ تمہارے پاس بٹ کوائن کرنسی ہے وہ ہمیں ٹرانسفر کر دو ورنہ تمہیں قتل کر دیں گے۔ اس دوران انہوں نے 1300 ڈالرز بھی اپنے دوست سے منگوا کر انہیں ٹرانسفر کر دیئے اور پھر اپنے اکاؤنٹ میں پڑے تین لاکھ 60 ہزار روپے بھی دے دیئے مگر اغوا کار لڑکی فضا شیخ بضدرہی جو تمہارے پاس جو بٹ کوائن ہے وہ دے دو ورنہ جان سے جاؤ گے۔ یاد رہے کہ اس وقت بٹ کوائن کی قیمت 88 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔ انہوں نے شہر کی مختلف اے ٹی ایم مشین سے محسن رضا کے اکاؤنٹ سے رقوم نکلوائیں اور پھر اس سے نان پی ٹی اے آئی فون چھین کر ایک ویرانے میں گاڑی روکی اور فضا شیخ سمیت چاروں اغوا کار اتر گئے۔ پولیس تھانہ الپہ نے محسن رضا ولد سید زاہد حسین ساکن کہکشاں سٹریٹ گلگشت کی تحریر ی درخواست پر مقدمہ نمبر24/1888درج کر کے موبائل ڈیٹا سےتلاش کرتے ہوئے ایک الیکٹریشن احسن کو باٹا چوک گلگشت سے الپہ پولیس نے اٹھا لیا اور زکریا یونیورسٹی کی گلی نمبر8 سٹاف کا لونی کے گھر میں لے جا کر ہتھکڑیوں سے باندھ دیا۔ اس کے دونوں ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیںجب مغوی احسن کو پیشاب کی حاجت ہوئی تو ڈیوٹی پر موجود کانسٹیبل نے اس کا ایک ہاتھ کھول دیا جب وہ واپس آئے تو اسی طرح بیٹھ گیا اور تھوڑی دیر بعد نگرانی پر بیٹھا کانسٹیبل گہری نیند سو گیا اور اس کے خراٹوں کی آواز سن کر مغوی احسن جس کا ایک ہاتھ کھلا جبکہ دوسرے ہاتھ میں ہتھکڑی تھی دیوار پھلانگ کر بھاگ گیا اور یونیورسٹی ہی کے ایک ملازم کی مدد سے ہتھکڑی سمیت گھر پہنچ گیا۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش جو کہ زکریا یونیورسٹی کے اندر قائم تھانہ الپہ کی ٹارچر سیل میں کی گئی کے مطابق ا حسن بے گناہ ہے جس پر احسن کے والد نے بند بوسن کے متحرک سیاسی نوجوان کے ذریعے ہتھکڑی واپس دے دی۔ پولیس پونے دو ماہ گزرنے کے باوجود ملزمان تک نہیں پہنچ پا رہی۔






