صرافہ بازارسود،مسروقہ سونا کا مرکز،خواجہ اسلم اور بیٹا سرپرست،2بھائی،الحسین جیولرز بھی شامل

صرافہ بازارسود،مسروقہ سونا کا مرکز،خواجہ اسلم اور بیٹا سرپرست،2بھائی،الحسین جیولرز بھی شامل

ملتان(سٹاف رپورٹر)صرافہ بازار ملتان میں سود خوروںاور چوری شدہ سونے کی خریداری کا سب سے بڑا مرکز صدر انجمن تاجران خواجہ اسلم اور اس کے بیٹے خواجہ محبوب کی سرپرستی میں کام کر رہا ہے۔ فیصل آباد، اوکاڑہ،ملتان ،پھول نگر، دیپال پور، قصور ،بہاولپورکے علاوہ پاک پتن کے سونا چور او ڈھ گینگ تمام تر چوری شدہ سونا ملتان میں ہی فروخت کرتے ہیںچند سال قبل بہاولپور سے تعلق رکھنے والی سیاستدان اور سماجی رہنما عذراشیخ جو کہ سابق یونین ناظم بھی رہی ہیں کہ بیٹے کی شادی کے دنوں میں ان کے گھر بہت بڑی ڈکیتی ہوئی جس میں زیورات اور پیسے لوٹے گئے۔ اس ڈکیتی میں ملوث اوڈ ھ گینگ فیصل آباد سے پکڑا گیا اور دوران تفتیش معلوم ہوا کہ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے اس اوڈھ گینگ سے سارے کا سارا ڈکیتی شدہ سونا ملتان کے صرافہ بازار کے تین صراف حضرات نے خریدا تھا جن سے بہاولپور پولیس نے بمشکل ریکوری کرائی کیونکہ ملتان پولیس اپنے پیٹی بند بھائیوں کا ساتھ دینے کےبجائے صرافہ بازار کے تاجروں کا ساتھ دیتی رہی۔ بہاولپور پولیس نے اس واردات میں لوٹا جانے والا سونا خریدنے والے صرافہ بازار کے تاجروں کو گرفتار کیا تو دوران تفتیش معلوم ہوا کہ یہ تاجر چوری شدہ سونا خریدنے کے ساتھ ساتھ سود خوری اور منی لانڈرنگ کے دھند ے میں بھی ملوث ہیں ۔اسی صرافہ بازار میں منی لانڈرنگ اور سود خوری میں ملوث دو بھائی پرویز اور جاوید بھی جنوبی پنجاب کی تمام صرافہ مارکیٹوں سے سود کے طور پر رہن شدہ سونا خریدتے ہیں جبکہ الحسین جیولرز کے مالک حسین فلک شیر بھی سود خوروں کے علاوہ سود خوری کے علاوہ ہنڈی حوالہ کا غیر قانونی کاروبار کرتے ہیں اور انہیں ایف آئی اے ملتان کی مکمل سرپرستی حاصل ہے ۔صرافہ بازار ملتان کے صدر خواجہ اسلم اور ان کے بیٹے خواجہ محبوب بارے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ ملاوٹ شدہ سونا سود پر بھی دیتے ہیں اور ایک ایک بسکٹ پر 10،10 بسکٹوں کے برابر منافع لیتے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں