ملتان(میاں غفار سے) 3 ارب روپے کے فنڈز کے اجرا اور نامعلوم اخراجات کے باوجود 14 پولیس اہلکاروں کا کچے کے ڈاکوئوں کے ہاتھوں شہید ہونا اور دوسری طرف ایک روپیہ بھی خرچ کئے بغیر ڈاکوئوں کے سب سے منظم اورخطرناک گینگ کے سربراہ شاہد لُنڈ کا مارا جانا پنجاب پولیس کے اعلیٰ افسران کی کارکردگی پر بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر گیا اور اگر یہ سلسلہ نکلا تو بہت سے اعلیٰ افسران کے لئےبہت سی مشکلات کھڑی ہو جائیں گی۔ آج سے 18 سال قبل اسی وقت کے ڈی پی او راجن پور مقصود الحسن اور اس وقت کے آر پی او مبارک اطہر چوہدری نے ایک طے شدہ منصوبوں کے تحت اس طرح کچے کے اندر اپنے بندے چھوڑ کر تبلیغی جماعت کے کارکنان کو استعمال کر کے 50 سے زائد ڈاکوئوں سے ہتھیار پھینکوا کر ایک نئی تاریخ رقم کی تھی اور حکومت پنجاب نے ان ہتھیار پھینکنے والوں کی بحالی کے لئے امداد اور تحفظ کا اعلان بھی کیا تھا مگر بعد میں حکومت پنجاب اپنے وعدے پر قائم نہ رہ سکی جس کی وجہ سے دو سال سے زائد عرصہ کچے کا علاقہ پر امن رہنے کے بعد دوبارہ سے جرائم کا آغاز ہو گیا تھا حالانکہ آپریشن پر ہر سال جاری ہونے والی رقم کی نسبت ان چند سو افراد کی آبادکاری اور بحالی پر اس رقم کا دس فیصد بھی خرچ نہیں ہوتا تھاتاہم فنڈز جاری کرنے والوں، ان فنڈز کا استعمال کرنے والوں، سامان اور اسلحہ وغیرہ کی خریداری کے بل بنانے والوں اور کروڑوں روپے کے فضول بل لینے والوں کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آنا تھا، اس لئے ہتھیار پھینکنے والوں کے خاندان اور ان کے بچوں کی آبادکاری او ر بحالی کا پروگرام ترک کر دیا گیا۔ مظفر گڑھ پولیس نے پنجاب پولیس کے لئے درد سر بننے والے بھتہ خورد ڈاکو شاہد لُنڈ کہ جس کے گینگ کے ڈاکوئوں نے چند ہی ہفتے قبل دو افراد کو قتل کر کے ان کی لا شیں دریائے سندھ میں بہا دیں تھیں کو فنڈز جاری کرائے اور شور شرابہ کئے بغیر اپنی تمام تر منصوبہ بندی کو مکمل رازداری میں رکھتے ہوئے لُنڈ قبیلے ہی سے بندہ توڑا اور اس کے ہاتھوں لُنڈ گینگ کا ٹک ٹاکر سرغنہ قتل کروا کر کچے کے ڈاکوئوں کی صفوں میں خوف اور بد اعتمادی کی ایسی فضا قائم کر دی جس کے اثرات دیر تک رہ سکتے ہیں اور کم از کم لُنڈ قبیلہ تو آپس میں لڑ کر ختم اور محدود ہوتاجائے گا۔ ضلع مظفر گڑھ کی تحصیل علی پور کے زیر انتظام علاقوں جنگل بیلے شاہ اور کچی کھپڑا کے علاقوں میں ڈاکوئوں اور اغوا کاروں کے اس گینگ کے بہت سے خاندانوں کو ملک بدر کر کے جنگل بنا لیا تھا جوچند ہی سالوں میں بہت گھناہونے کی وجہ سے ڈاکوئوں اور اغوا کاروں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا تھا۔ جس کی وجہ سے پولیس کی انٹری اس علاقے میں نا ممکن تھی۔ یہ بات انتہائی توجہ طلب ہے کہ 2006 میں جب مقصود الحسن ڈی پی او راجن پور تھے تو اس وقت سب انسپکٹر فیاض ان کے پرسنل سٹاف میں ڈاکوئوں کے ہتھیار ڈلوانے کے سارے منصوبے کا حصہ تھے اور اس ٹیم نے روجھان شاہوالی اور کوٹ مٹھن کے دریائی علاقے میں اسی طرح سے اپنے لوگ تیار کر کے داخل کئے تھے اور یہ بھی اتفاق ہے کہ اس وقت کے سب انسپکٹر فیاض چوہدری ان دنوں مظفر گڑھ کی تحصیل علی پور میں بطور ڈی ایس پی تعینات ہیں۔ انہوں نے 2006 والا تجربہ کیا اور پولیس کی طرف سے ایک بھی فائر نہ ہوامگر سب سے خطرناک گینگ کا سربراہ شاہد لُنڈ پولیس کے تیار کردہ اسی کے کزن عمر لُنڈ کے ہاتھوں موت کے گھات اتر گیا۔ نہ کوئی فنڈز جاری ہوئے۔ نہ پولیس اہلکاروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا گیا اور ایک کروڑ روپے سر کی قیمت والا خطرناک ترین گینگ کا سرغنہ شاہد لُنڈ موت کے منہ میں چلا گیا۔ یہ بات بھی سوالیہ نشان ہے اور اس شک کو بہت ہی زیادہ تقویت دیتی ہے کہ پنجاب پولیس کو ڈی ایس پی علی پور کی یہ ’’حرکت‘‘ پسند نہیں آئی۔ یہی وجہ ہے کہ معمولی اور مکمل فرضی کارروائیاں ڈالنے والوں کو تو آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اپنے دفتر بلا کر سینے سے لگاتے ہیں۔ ان کے ساتھ ٹک ٹاک بنواتے ہیں ۔ شاباش دیتے ہیں۔ نقد انعام اور سرٹیفکیٹ سے نوازتے ہیں مگر شاہد لُنڈ کو انتہائی منظم منصوبہ بندی کے تحت موت کے گھاٹ اتار نے والی ٹیم کو مکمل طور پرنو لفٹ ہے اور یہی بات اس شک کو تقویت دیتی ہے کہ فنڈ ز خرچ کئے بغیر ایک اینکر کی یہ حرکت قابل پذیرائی قرار نہیں پائی کیونکہ اگر یہ ٹرینڈ چل گیاجو کہ دو مرتبہ کا میاب ہو چکا ہے تو روزی روٹی میں سے روٹی نکل جائے گی اور محض روزی باقی رہ جائے گی۔






