پی آئی اےکا’’نور‘‘سےتاریکی کاسفر،بھٹونےبنیادرکھی،بھانجے ٹِکو کےٹیکےکااثرآج تک باقی

پی آئی اےکا’’نور‘‘سےتاریکی کاسفر،بھٹونےبنیادرکھی،بھانجے ٹِکو کےٹیکےکااثرآج تک باقی

Air Marshal, Bhutto is a Bhutto wherever he is

ملتان(میاں غفار سے ) کاش کوئی پاکستان کی گزشتہ 50 سالہ بربادی پر ریسرچ کرائے اور اس کے لئے بہترین سورس صرف اور صرف پرانے اخبارات ہی ہو سکتے ہیں کیونکہ اخبارات کی تیاری روزانہ کی بنیاد پر مختلف الخیال اخباری کارکن کرتے ہیں جس کا حتمی مسودہ کئی طرح کی چھاننیوں سے گزر کر روزانہ رات کے آخری پہر میں طباعت کے لیے پریس میں جاتا ہے جبکہ کتاب کسی ایک منصف کی پسند و ناپسند کے زیر اثر ہوتی ہے اس لئے اخبارات کے مقابل اس خطے میں کتاب کی معلومات کی صداقت درجہ بندی میں کافی پیچھے ہے۔ بھٹو دور کی تین مختلف قومی اخبارات کی شائع شدہ خبروں پر مشتمل ان معلومات کے علاوہ بھی سینکڑوں معلومات ایک ریٹائرڈ ریسرچر نے اکٹھی کیں تو حیران کن انکشاف ہوا کہ دیگر صنعتی اداروں کی طرح پی آئی اے کی بربادی کی بنیاد بھی ذوالفقار علی بھٹو ہی کی انا کے ہاتھوں رکھی گئی۔ آج ہماری غالب اکثریت پی آئی اے کی بربادی کا بھی نواز شریف کو قصوروار سمجھتی ہے اور یہ اہم بات بھول جاتی ہے کہ پی آئی اے خود مختار وفاقی ادارہ ہونے کے باوجود ہمیشہ ہی وفاق سے کہیں زیادہ کراچی کے زیر کنٹرول رہا ہے۔’’ذوالفقار علی بھٹو، ایئر مارشل نور خان اور پی آئی اے‘‘ کے عنوان سے جمع شدہ معلومات کے مطابق بھٹّو بلاشبہ اک بڑا آدمی تھا لیکن بدقسمتی سے وہ اپنی انا پرستی اور جاگیردارانہ سوچ کے زیر اثر ا یئر مارشل( ر) نور خان جیسے انتہائی بااصول سچے موتی سے ٹکرا گیا اور اس ٹکراؤ نے پی آئی اے کی بربادی کا آغاز کر دیا۔ محفوظ مصطفیٰ بھٹو نامی ایک شخص جو کہ اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹّو کا بھانجا تھا اور جس کی تعلیمی قابلیت قطعی طور پر سیلز پروموشن آفیسر جیسی اہم پوسٹ کے مطابق نہ تھی مگر بھٹو مرحوم نے اسے اس اہم ترین اسامی پر تعینات کرا دیا جس کے لیے لوگ آج بھی نہ جانے کتنی سفارشیں، رشوت اور دھکے کھاتے ہیں۔ محفوظ مصطفیٰ بھٹو کا دفتر اُس وقت کراچی جم خانہ کلب کے قریب تھا، انہیں پی آئی اے کی طرف سے تمام تر مراعات میسر تھیں، وہ ٹِکو کے نام سے مشہور تھے اور اس کے اصل نام سے بہت ہی کم لوگ واقف تھے۔ ممتاز علی بھٹو اس وقت سندھ کے وزیر اعلیٰ ہوا کرتے تھے اس لئے محفوظ مصطفیٰ عرف ٹِکو کی تمام مصروفیات کا تعلق پی آئی اے کے بجائے وزیر اعلیٰ ہاؤس، مختلف وزرا، سیکرٹریٹ حتیٰ کہ وفاق کے سرکاری دفاتر سے مختلف فائلوں پر دستخط کرانے تک ہی پھیلا ہوا تھا جبکہ پی آئی اے کے معاملات سے اس کی لاپروائی اس قدر
بڑھ چکی تھی کہ اس کے سینئر افسران نوٹس لیتے ہوئے اسے وارننگ لیٹر جاری کرتے مگر اسکے خلاف کوئی انضباطی کارروائی کرنے سے ڈرتے تھے۔ یہ بات بااصول چیئرمین پی آئی اے ا یئر مارشل ریٹائرڈ نور خان تک جا پہنچی جس کا انہوں نے سخت نوٹس لیتے ہوئے محفوظ مصطفیٰ کی اچھی طرح کھچائی کی اور اسے شوکاز نوٹس جاری کیا کہ اگر پی آئی اے میں رہنا ہے تو کام کرنا ہو گا اور آپ کے کام کی رپورٹ مانگی جائے گی نہیں توکسی بھی کوتاہی کی صورت میں بغیر کسی نوٹس کے گھر بھیج دیا جائے گا کیونکہ اپنے فرائض میں دلچسپی کے سوا آپ کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ محفوظ مصطفیٰ عرف ٹکو کو وارننگ لیٹر جاری ہونےکےچند روز بعد وزیراعظم ہاؤس سے ا یئرمارشل نور خان کو پیغام موصول ہوا کہ پرائم منسٹر لاڑکانہ آ رہے ہیں انہوں نے آپ کو پی آئی اے کے فلاں فلاں معاملات پر بریفنگ کے لیے بلایا ہے۔ پیغام ملتے ہی ا یئر مارشل نور خان نے متعلقہ معاملات کی فائلیں اور بریفنگ تیار کی اور کراچی سے لاڑکانہ پہنچنے پر وزیر اعظم بھٹو سے انکی ملاقات ہوئی۔ ایئر مارشل نور خان نے پی آئی اے کے معاملات پر تفصیل سے بریفنگ دی جو ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ میٹنگ کے بعد ا یئر مارشل نور خان وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ہاتھ ملانے کے بعد جانے لگے تو بھٹو نے تلخ لہجے میں کہا: ا یئر مارشل مت بھولئے گا کہ بھٹو جہاں بھی ہے وہ بھٹو ہوتا ہے۔ ان کے الفاظ یوں تھےAir Marshal, Bhutto is a Bhutto wherever he isایئرمارشل نورخان سمجھ گئے کہ انہیں محفوظ مصطفیٰ بھٹو عرف ٹکو کے حوالے سے وارننگ دی گئی۔ نور خان نے بھٹو کی اس بات پر کسی قسم کا رد عمل تو نہ دیا البتہ ایک ہلکی سی مسکراہٹ سے وزیراعظم کو خدا حافظ کہتے ہوئے کراچی اپنے دفتر پہنچے اور چند منٹوں بعد اپنا استعفیٰ وزیر اعظم ہاوُس بھجوا دیا۔محفوظ مصطفیٰ بھٹو وہ پہلی چوٹ تھی جو سابقہ وزیر اعظم بھٹو کے ہاتھوں پی آئی اے کو لگی اور نور خان کے جاتے ہی پی آئی اے میں سیاست داخل ہو گئی ۔وہ پی آئی اے جو ایئرمارشل نورخان کے زمانے میں پاکستان کے وقار کی علامت تھی آج پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی کی وجہ بن چکی ہے۔ ا یئرمارشل نور خان کے بعد پی آئی اے بتدریج تنزلی کی طرف چلتی گئی اور پھر ایسی گرائی گئی کہ کبھی سنبھالی ہی نہ جا سکی۔ ائیر مارشل نور خان اس قوم کا وہ ستارہ تھا جو ایئر فورس ، پی آئی اے ، سکوائش، ہاکی اور کرکٹ کے ہر عہدے پر جہاں بھی براجمان ہوا پاکستان کے نام اور مقام کو بلندیوں تک لے گیا۔ بڑے بڑے ترقی یافتہ ملکوں کے سیاح اور ٹریولر اپنے اپنے ملکوں کی ائیر لائنز پر پی آئی
اے کو ترجیح دیتے تھے۔ نور خان مرحوم کی وطن سے محبت ایک واقعہ سےلی جا سکتی ہے پی آئی اے کا ایک طیارہ کراچی سے ہائی جیک کر لیا گیا اور ہائی جیکر نے پائلٹ کو حکم دیا کہ جہاز کو بھارت لے جائے۔ ایئر مارشل نورخان ہائی جیکر سے بات کرنے کیلئے جہاز کے اندر خالی ہاتھ اکیلے ہی جا پہنچے اور اسے باتوں میں مصروف رکھتے ہوئے ڈھلتی عمر میں بھی پوری قوت کے ساتھ اچانک اس کے ہاتھ سے پستول چھیننے کیلئے اس پر جھپٹے تو ہائی جیکر کی گولی سے ان کی ٹانگ زخمی ہونے کے باوجود انہوں نے ہائی جیکر پر قابو پاتے ہوئے جہاز کے مسافروں کی زندگیاں محفوظ بنانے میں کامیابی حاصل کر لی۔آج یہ حالت ہے کہ پی آئی اے پر پابندیاں لگ رہی ہیں جبکہ وہ ایئر لائنز جنہیں پی آئی اے نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا ہے آج وہ پی آئی اے کی جگہ اس ریجن کا بزنس سنبھال رہی ہیں۔پی آئی اے کے ساتھ جو ہوا اس پر اگر کوئی ایسا کمیشن بنے جو کمیشن نہ لے اور اوپن انکوائری میں ہر ذمہ دار کو قوم کے سامنے لا کر بتائے کہ پی آئی اے کو کس کس نے بے دردی سے تباہ کیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں