ملتان(کرائم سیل)کاریگر عورتوں کے ذریعے معززین شہر اور بعض سرکاری افسران کو بلیک میل کرنے والے گروہ کے سر غنہ عمران خان کو جیل جاتے ہی سفارشیوں نے سہولیات فراہم کر دی ہیں اور اسے جیل ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔ روزنامہ قوم کو شہریوں کی طرف سے سینکڑوں تصاویر اور ویڈیو زبھجوائی گئی ہیں جن میں عمران خان مختلف تقریبات میں اعلیٰ افسران اور بزنس مین حضرات کے ساتھ موجود ہے جبکہ ملتان کے شعبہ صحافت میں یہ بات زبان زد عام ہے کہ ایف بی آر اور کسٹم حکام کے افسران کیلئے تمام تر سودے بازی اس عمران خان کے ذریعے ہی ہوتی ہے۔ عمران خان کے سہولت کاروں میں کسٹم کے اہم افسران بھی شامل ہیں اور حیران کن طور پر وہ بھی شامل ہیں جن کی ڈیوٹی ملتان ایئرپورٹ پر اینٹی سمگلنگ میں ہے اور یہ بھی ہر کسی کے علم میں ہے کہ ملتان میں آئی فونز کا سب سے بڑا سپلائر بھی عمران خان ہی ہے جس کا ہر دبئی سے آنے والی فلائٹ میں مال لازمی ہوتا ہے ۔بتایا گیا ہے کہ جیل منتقل ہونے سے پہلے ہی جیل کے افسران کو سفارشیں پہنچ گئی تھیں جس کی وجہ سے نہ تو عمران خان کی تلاشی ہوئی اور نہ ہی اسے بیرک میں منتقل کیا گیا بلکہ چند منٹ کی جیل افسر سے ملاقات کے فوری بعد اسے جیل ہسپتال منتقل کر دیا گیا ۔روزنامہ قوم کو ایک ایسی تصویر بھی موصول ہوئی ہے جس میں ایک مختصر ڈنر میں عمران خان ایک جیل افسر و دیگر افراد کے ساتھ موجود ہے مگر احتراماً روزنامہ قوم وہ تصاویر شائع نہیں کر رہا کہ افسران کو اپنی عزت کا تو احساس نہیں مگر روزنامہ قوم کو ہے اور روزنامہ قوم ان کے اس بھرم کو قائم رکھنا چاہتا ہے۔ معلومات اتنی زیادہ ہیں کہ شیئر کر دی جائیں تو شہر میں طوفان مچ جائے۔ ملتان میں ایف آئی اے، سائبر کرائم ،کسٹم انٹیلی جنس ،انکم ٹیکس اور بعض معروف صنعت کاروں کی آنکھوں کی اس تارے عمران خان بارے سارا ہی شہر آگاہ ہے اور اس بات سے بھی آگاہ ہے کہ ایک نیم خواندہ ٹاؤٹ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افسران کی دوستیاں آخر کیا معنی رکھتی ہیں۔ کیا معلومات رکھنے والےاعلیٰ افسران کے پاس یہ معلومات نہ تھیں کہ عمران خان مبینہ طور پر منشیات،آئس اور دیگر سکون آور سامان کی سہولت کاری کے حوالے سے اچھی شہرت نہیں رکھتا پھر ان گہری دوستیوں کے حوالے سے سوالات تو اٹھیں گے۔






