ملتان(قوم ریسرچ سیل) پاکستان کی تعلیمی تاریخ کے قانونی، اخلاقی ، مالی انتظامی اور میرٹ کی بربادی کے حوالے سے کرپٹ ترین سابق وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ڈاکٹر اطہر محبوب نے بہاولپور اور رحیم یار خان میں 2000 سے زائد جعلی بھرتیاں کر کے جہاں ان دونوں اداروں کو تباہ کر دیا اور خود مختار ادارے مقروض کر دیئے وہاں پر اس حرام دولت کا دسواں حصہ متعلقہ افسران ، سیاستدانوں اور تحقیقاتی اداروں کے اہم افسران پر ویلیںپھینک کر متعدد انکوائریوں کے باوجود آزادانہ زندگی گزار رہے ہیں اور دسویں حصے دار بیسوں افراد جن میں میڈیا پرسن بھی شامل ہیں ہر طرح کی حرام کاریوں سے آگاہ ہونے اور اسلامیہ یونیورسٹی کے اخلاقی معاملات کا مکمل علم رکھنے کے باوجود نہ صرف خاموش ہیں بلکہ کرپٹ نام جو کہ اطہر محبوب کا تعارف کر دیا تھا کچھ آج بھی سہولت کاری کر رہے ہیں، حیران کن امریہ ہے کہ موجودہ گورنر پنجاب کے پاس درجنوں شکایات ہیں جن میں سے صرف ایک بار آور ثابت ہوئی مگر اس میں بھی 8 سال تک تدریسی ذمہ داریاں پوری کرنے والے خواجہ فرید یونیورسٹی رحیم یار خان کے دو پروفیسر ڈاکٹر ثنا اللہ اور ڈاکٹر اعجاز تو زیر عتاب آئے مگر ڈاکٹر اطہر محبوب بارے خاموشی اور پردے میں رکھے گئے نہ تو نیب کی رپورٹ سامنے آسکی نہ ہی سابق وفاقی سیکرٹری مظہر علی خان کی تفصیلی رپورٹ اور چیف منسٹر انسپکشن ٹیم کی رپور ٹ پر کوئی کارروائی ہوئی البتہ جو تحقیقاتی کمیشن ڈاکٹر اطہر محبوب کی سہولت کاری کیلئے بنائے گئے اس کے فیصلے ٹارگٹ ثابت ہوئے اور اب بھی ہو رہے ہیں۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے منشیات اور جنسی ہراسمنٹ کے سکینڈل کو جس طرح سابق ڈی پی او بہاولپور عباس علی سید کےدور میں منظر عامہ پر لایا گیا ان کی تعیناتی کے دوران تو باوجود کوشش آر پی او بہاولپور اس کیس کے ملزمان کو ’’تفتیشی سہولیات‘‘ فراہم نہ کر سکے مگر جب اس کرپٹ نظام نے انہیں راستے سے ہٹا دیا تو یونیورسٹی کے محض چند کرپٹ افرادکی فرانزک رپورٹ جس کی کاپی روزنامہ ’’قوم‘‘ سمیت بہت سے لوگوں کے پاس تو موجود ہے مگر پولیس اور عدالتی ریکارڈ سے ہٹائی جا چکی ہے اور اس پول کے اقدامات کسی انسپکٹر ڈی ایس پی حتیٰ کہ ایس پی کی سطح کے افسران کے اختیارمیں بھی نہیںہوتے یہ اعلیٰ سطحی سہولت کاری صرف اعلیٰ آفیسرز ہی کر سکتے ہیں اس لئے آر پی او بہاولپور نے سابق ڈی پی او کےٹرانسفر کے بعد کھل کر اخلاقی ظلم میں ملوث ڈاکٹر ابو بکر کی سپورٹ کی اور موجودہ ڈی پی او اسد سرفراز اس لئے خاموش رہے کہ انہیں کمانڈ سے زیادہ 27 نومبر کو ہونے والی پروموشن کمیٹی کے بعد اپنی پروموشن میں دلچسپی ہے اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنا قلم اورمیرٹ بھی ان دنوں گروی رکھا ہوا ہے۔ انہیں اسی لئے کسی بھی معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں کہ اے سی آر بھی تو درست رکھنی ہے






