اطہرمحبوب کی عجب کرپشن کی غضب کہانی ،حرام کمائی کادسواں حصہ رشو ت دیکر انکوائریاں ٹھپ

بھرتی غلط،2 پروفیسرزفارغ، سینکڑوں پر تلوار ،2 جامعات تباہ کرکے اطہر محبوب نجی مشن پر

ملتان(ریسرچ سیل) گورنر پنجاب نے خواجہ فرید یونیورسٹی رحیم یار خان میں 8 سال قبل 2016 میں ڈاکٹر اطہر محبوب کے دور میں قواعد و ضوابط کے منافی بھرتی کئے
جانے والے دو پروفیسر حضرات کی تقرریاں ختم کرتے ہوئے اس دور میں ہونے والے سلیکشن بورڈ ہی کو ختم کردیا جس سے 8 سال تک ایڈہاک بنیادوں پر تدریسی عمل جاری رکھنے والے دو اسسٹنٹ پروفیسرز ڈاکٹر اعجاز اور ڈاکٹر ثنا اللہ کی ملازمتیں ہی کالعدم ہوگئیں۔ گورنر پنجاب جوکہ خواجہ فرید یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں کی طرف سے ان تقرریوں کی منظوری ہی حاصل نہ کی گئی اور نہ ہی سلیکشن بورڈ منظور شدہ سروس قوانین کے مطابق ہوا۔ اس طرح کی سینکڑوں تقرریاں کرکے رحیم یار خان اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کو تباہ کرکے اربوں لوٹنے والے ڈاکٹر اطہر محبوب اپنی ترانی نجی یونیورسٹی قائم کئے بیٹھے ہیں اور ان کے غیر قانونی اقدامات کی وجہ سے اساتذہ کرام اور ان یونیورسٹیوں کے ہزاروں ملازمین پر برخاستگی کی تلوار لٹک رہی ہے ۔ گورنر پنجاب کی طرف سے ان تقرریوں سمیت دیگر متعدد تقرریوں کے قواعد و ضوابط کے مطابق گورنر سے بطور چانسلر منظوری لی جاتی ہے مگر نہ لی گئی ۔ بتایا گیا ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر اعجاز اور پروفیسر ڈاکٹر ثنا اللہ 2016 میں ایڈہاک بھرتی ہوئے اور 8 سال سے ایڈہاک بنیادوں پر ہی ملازمین کررہے تھے ۔ انہوں نے سابق گورنر پنجاب کو درخواست دی کہ وہ کنٹریکٹ پر کام کررہے ہیں اور انہیں مستقل نہیں کیا جارہا جس پر گورنر سیکرٹریٹ کی طرف سے نوٹس نہ لیا گیا تو مذکورہ دونوں پروفیسرز نے اپنی مستقلی بنیادوں پر تقرری کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ ہائی کورٹ نے گورنر پنجاب کو ڈائریکشن دی کہ ان پروفیسرز حضرات کی درخواستوں پر فیصلہ کریں جس پر جانچ پڑتال شروع ہوئی تو پتہ چلا کہ قواعد کے مطابق ان تقرریوں کی گورنر پنجاب سے منظوری ہی نہ لی گئی جس پر غلط پروسیجر اختیار کرنے والے اطہر محبوب کو تو نہ چھیڑا گیا اور دونوں پروفیسرز حضرات کی ملازمتیں غیر قانونی قرار دے کر ختم کردی گئیں۔ سابق وفاقی سیکرٹری مظہر خان نے بھی دو سال قبل ایک اعلیٰ سطحی انکوائری میں ڈاکٹر اطہر محبوب کی کرپشن اور غیر قانونی تقرریوں پر مفصل رپورٹ لکھ کر اطہر محبوب کے خلاف اینٹی کرپشن میں مقدمہ درج کرنے اور ریکوری کرنے کی سفارش کی تھی ۔نگران دور میں مظہر خان رپورٹ اور چیف منسٹر انسپکشن ٹیم کی مفصل رپورٹ برائے منظوری کارروئی چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں اجازت نامے کی منتظر ہے اور اسی وجہ سے ڈاکٹر اطہر محبوب کے خلاف ہر طرح کی کارروائی لتوا کا شکار ہے۔ بعض متعلقہ ملازمین کی طرف سے چیف منسٹر سیکرٹریٹ کو یاد دہانی کے خطوط بھی لکھے گئے ہیں اور تاحال اجازت نامہ جاری نہیں ہوا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں